1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایرانی پادری کے لیے سزائے موت پر جرمنی کا احتجاج

جرمنی نے ایران میں سزائے موت پانے والے پادری یوسف نادرخانی کی سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جرمن وزارت خارجہ نے برلن میں ایرانی سفارت کار مرتضی تہرانی کو طلب کرتے ہوئے اپنا مطالبہ تہران حکومت تک پہنچایا۔

default

 جرمن حکومت کے انسانی حقوق کے کمشنر مارک لوئنگ نے کہا کہ ایران پر لازم ہے کہ وہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا خیال رکھے۔ اس دوران ایرانی سفارت کار مرتضی تہرانی سے کہا گیا ہے کہ وہ تہران حکومت تک جرمن حکام کا یہ پیغام پہنچا دیں کہ پادری کی سزائے موت کو ختم کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

 32 سالہ نادر خانی جب 19برس کے تھے تو انہوں نے مسیحیت اختیار کی تھی۔ پھر پادری بننےکے بعد انہوں نے نجی طور پر عبادات منعقد کرنا شروع کیں۔ 2009ء میں انہیں اسلام سے لا تعلقی اور اس کے خلاف تبلیغ کرنے کے جرم میں گرفتارکر لیا گیا۔ عدالت نے 2010ء میں انہیں سزائے موت سنا دی۔

امریکہ اور پولینڈ سمیت متعدد مغربی ممالک نے تہران حکومت سے یوسف نادر خانی کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس سے قبل لندن حکام کی جانب سے بھی ان کی سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکہ نے بھی تہران حکومت سے کہا ہے کہ نادرخانی کی سزائے موت پر عمل درآمد روکا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جے کارنی نےکہا کہ یوسف نادرخانی نے اپنے ایمان سے  وفادار رہنےکے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ نادر خانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ سزائے موت معاف کرانے کے لیے اپیل کی جائے گی اور انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس میں کامیابی ہو گی۔

 اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نادرخانی پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ مسیحیت ترک کر دیں ورنہ 2010ء میں انہیں سنائی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔ ایران کی آبادی 75 ملین ہے اور ان میں سے تقریباً چار لاکھ مسیحی ہیں۔

 

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM