1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی وزیر خارجہ متقی برخواست، صالحی نئے وزیر

منوچہر متقی گزشتہ پانچ برسوں سے عالمی سطح پر ایران کے اعلیٰ ترین سفارتکار کے طور پر سرگرم تھے۔ اندرون خانہ صدر محمود احمدی نژاد امکاناً ان کی کاوشوں پر خوش نہیں تھے۔

default

منوچہر متقی: فائل فوٹو

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے اِس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے وزیر خارجہ منو چہر متقی کو فارغ کر دیا ہے۔ ایرانی صدر نے برخواستگی کے بعد ایک خط میں متقی کی گزشتہ پانچ سالہ خدمات کو سراہا ہے۔ متقی کے منصب سے علیٰحدہ کرنے کو ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے بھی رپورٹ کر دیا ہے۔ برخواستگی کے اعلان کے وقت متقی سینیگال کے دورے پر تھے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ بھی منوچہر متقی کے خارجہ امور کے منصب پر شاکی تھے۔ اس مناسبت سے ان کا اعتراض تھا کہ وہ ایران پر اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو رکوانے کے سلسلے میں سرگرمی اور اس سفارتکاری کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے، جس کی ایران کو ضرورت تھی۔ ایرانی پارلیمان کے ممبران کا یہ بھی خیال تھا کہ متقی عالمی سطح پر ایران کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی ناکام رہنے کے علاوہ ایرانی جوہری پروگرام کی بھرپور انداز میں وکالت کرنے سے بھی قاصر تھے۔ ایران پر سلامتی کونسل کی جانب سے چوتھی پابندیاں اسی سال جون میں لگائی گئی تھیں۔ وہ پانچ سال سے زائد عرصہ تک ایران کے وزیر خارجہ رہے۔

ایرانی صدر نے عارضی طور پر وزارت خارجہ کا قلمدان ایرانی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی کو سونپ دیا ہے۔ صالحی صدر احمدی نژاد کے انتہائی قریبی ساتھی خیال کئے جاتے ہیں۔ اگر صالحی ہی کو اس منصب پر برقرار رکھا جاتا ہے تو اس کی باضابطہ توثیق پارلیمنٹ سے ہو گی۔ اس وقت منصب اور مقام و عہدے کے لحاظ سے صالحی مقرر کردہ نائب صدور میں سے ایک ہیں۔

دوسری جانب اصلاح پسندوں کی ویب سائٹس کے مطابق متقی صدر کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں برخواست کئے گئے ہیں۔ ایک ویب سائٹ میڈم سالاری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران منوچہر متقی اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں اور صدر احمدی نژاد کے نقطہ نظر کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کو مٹانے میں کلی طور پر ناکام رہے تھے۔

منوچہر متقی چوبیس اگست سن 2005 سے ایران کے وزیر خارجہ چلے آ رہے تھے۔ وہ تقریباً آٹھ سال تک وزیر خارجہ رہنے والےکمال خرازی کے متبادل کے طور پر سامنے لائے گئے تھے۔ وہ بھارت کی بنگلور یونیورسٹی میں بھی پڑھتے رہے تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM