1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی نائب صدر مستعفی

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے قدامت پسندوں کے دباؤ میں آتے ہوئے خود نامزد کئے اپنے نائب صدر اسفند یار رحیم مشائی کو بر طرف کر دیا ہے۔

default

مستعفی نائب صدر اسفندیار رحیم مشائی اور صدر احمدی نژاد کے راستے جدا

Esfandiar Rahim Mashai Mahmud Ahmadinedschad

مشائی اور صدر احمدی نژاد رشتہ دار بھی ہیں


تقریبا ایک ہفتہ قبل ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے احمد نژاد کو احکامات صادر کئے تھے کہ مشائی کو نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ متنازعہ مشائی نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اسرائیلی اور ایرانی آپس میں دوست ہیں، جس کے باعث ایران میں قدامت پسند حلقوں نے مشائی کے اس بیان پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق احمد ی نژاد نے مشائی کی برطرفی کا سرکاری حکم نامہ آیت اللہ خامنہ ای کو بھجوا دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مشائی اپنے عہدے سے دست بردار ہیں۔

Iran Ayatollah Ali Chamenei in Teheran

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر احمدی نژاد کو حکم دیا تھا کہ وہ مشائی کو نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیں

گزشتہ ایک ہفتے سے مشائی کو نائب صدر نامزد کئے جانے پر احمدی نژاد کو قدامت پسند حلقوں کی جانب سے سخت دباؤ کا شکار بنایا جا رہا تھا، یہاں تک کہ سپریم رہنما خامنہ ای نے اپنے ایک خط میں احمدی نژاد کو لکھا تھا کہ مشائی کو اِس عہدے پر فائز کرنا نہ ملکی صدر کے حق میں بہتر ہے اور نہ ہی حکومت کے۔ ایران کے ذرائع ابلاغ پر نشر کئے جانے والے اِس خط میں خامنہ ای نے کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ مشائی کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا جائے کیوں کہ اس فیصلے سے صدر کے حمایتیوں میں تفرقہ پڑ سکتا ہے اور اختلافات پھوٹ سکتے ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کھل کر بولنے والے احمدی نژاد نے ابتداء میں مشائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک کے اسلامی نطام کی حفاظت کے لئے وفادار اور ایماندار ہیں۔ مبصرین کے مطابق مشائی کو نائب صدر کے عہدے سے برخاست کرنے پر احمدی نژاد کو سیاسی طور پر ایک دھچکا لگا ہے۔

دریں اثناء ایران میں انقلاب کے محافظوں کے کمانڈر ان چیف نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل، ایران پر حملہ کرے گا تو وہ جواباً اسرائیل کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیں گے۔ محمد علی جعفر نے اپنے نشریاتی انٹرویو میں مزید کہا کہ تہران حکومت کی میزائل ٹیکنالوجی اسرائیل کو اور گلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ علی جعفر نے کہا کہ ایران اسرائیل کی عسکری صلاحیت سے ہر گز خوف زدہ نہیں ہے۔