1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی متنازعہ صدارتی الیکشن :گرفتار اصلاح پسند لیڈروں کے بیانات اور ردِ عمل

انقلابی کورٹ میں حالیہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو واپس لینے کے بارے میں بیانات ادویات کے اثر میں نہیں دئے،علی ابطحی:

default

گرفتار اصلاح پسند لیڈر محمد علی ابطحی، بائیں جانب

ایران کے اہم اصلاح پسند لیڈر علی ابطحی نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا ہے جن کے مطابق ہفتے کے روز انقلابی کورٹ میں بارہ جون کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے جو بیانات دیا تھا وہ ادویات کے اثر میں تھا۔

سابق ایرانی صدر اور اعتدال پسند سیاستدان محمد خاتمی کے قریبی ساتھی علی ابطحی نے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں انقلابی کورٹ کے سامنے دئے گئے انکے بیانات کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ادویات کے استعمال کے بعد اور ان کے اثر میں دئے گئے تھے، ملکی خفیہ سروس کی سخت توہین ہے۔

ابطحی کی زوجہ فہیمہ موسوی نژاد نے اپوزیشن ویب سائٹ کے ذریعے منظر عام پر آنے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز انقلابی کورٹ کے سامنے مقدمے کی کارروائی کے دوران انکے شوہر ابطحی نارمل ذہنی حالت میں نہیں تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ بیانات ادویات کے اثر میں دے رہے تھے۔

Iran 17_07_2009 Freitagsgebet

ہاشمی رفسسنجانی جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے

ادھر حالیہ صدارتی انتخابات کے لئے نامزد ہونے والے اور محمود احمدی نژاد کے مخالف میر حسین موسوی، جنہیں الیکشن میں شکست ہوئی ، نے کہا ہے کہ عدالت ان سو افراد کے بیانات لینے کے لئے حکام نے اذیت رسانی کے وہ طریقے استعمال کئے ہیں جو قرون وسطیٰ میں رائج تھے۔

دریں اثناء سابق صدر خاتمی نے بھی انقلاب کورٹ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف مظاہرے کرنے والوں اور صدر احمدی نژاد کے مخالفین ایک سو افراد کے مقدمے کی کاروائی کی اعلانیہ ملامت کی ہے۔ ان افراد پرحکومت کا الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو غیر مستحکم بنانے، ملک میں انتشار پھیلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ ان میں ایران کی چند اہم سیاسی شخصیات اور ممتاز اصلاح پسند لیڈران بھی شامل ہیں۔

Ein weiterer Reformer tritt zurück

محمد علی ابطحی اور محمد خاتمی: ایک فائل فوٹو

اصلاح پسند لیڈر علی ابطحی نے کورٹ میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے تمام دوستوں اور ان افراد کو جو انکا پیغام سن رہے ہیں، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’ایران کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا الزام جھوٹا تھا اور اس معاملے کو ہوا دینے کا مقصد ایران میں فتنہ و فساد پھیلانا تھا تاکہ یہ ملک بھی افغانستان اور عراق کی طرح بحران کا شکار ہوکر مشکلات کا سامنا کرے جن سے یہ دونوں ممالک گزر رہے ہیں‘۔ علی ابطحی کے مطابق وہ خود حکومت مخالف ریلیوں میں حصہ نہیں لینا چاہتے تھے تاہم ’اپوزیشن لیڈر میر حسین موسوی اور کاروبی نے انہیں مجبور کیا‘۔ علی ابطحی نے ان اپوزیشن لیڈروں پر ایک ’مخملی انقلاب‘ کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے جس کا مقصد علی ابطحی کے بقول اسلامی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

اس حوالے سے ایک دوسرے اصلاح پسند سیاستدان، معروف صحافی اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے سیاسی مشورہ کار اور کنسٹرکشن پارٹی کی ایکزیکٹو کمیٹی کے ممبر عطریانفر نے بھی اس امرکی طرف نشاندہی کی تھی کہ انتخابات میں چند بے ضابطگیوں کو غلط انداز میں فراڈ یا دھاندلی سمجھا گیا۔

اصلاح پسندوں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو واپس لینے سے متعلق علی ابطحی کے بیانات کو سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے فسق قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے موجودہ اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ حالیہ صدارتی انتخابات سے پہلے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کیا تھا۔ علی ابطحی کی طرف سے انقلابی کورٹ میں ’دیئے جانے والے اس بیان کو بھی رفسنجانی نےجھوٹ قرار دیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر موسوی، سابق صدر اور اصلاح پسند سیاستدان محمد خاطمی اور خود رفسنجانی نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ضِمن میں کوئی معاہدہ کیا تھا۔ رفسنجانی کی زیر نگرانی کمیٹی نے اس امر کی وضاحت بھی کی تھی کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں رفسنجانی نے کسی بھی امیدوارکی حمایت نہیں کی تھی۔

اپوزیشن کی جانب سے صدارتی انتخابات کو دوبارہ کروانے کے مطالبات اور حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ تیس سالوں کے اندر بدترین سیاسی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ الیکشن کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات میں تقریباً تیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دو ہزار کے قریب مظاہرین، سیاسی سرگرموں، صحافیوں اور اصلاح پسندوں کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب انہوں نے عوام کے سامنے کھل کر انتخابات کے عمل کی درستگی کو چیلنج کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سے زیادہ تر کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم دو سو پچاس اب بھی زیر حراست ہیں۔