1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی علماء کی مجلس شوریٰ پر برہمی

ایران میں علماء کا ایک گروپ بھی حالیہ صدارتی انتخابات کے متنازعہ نتائج کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایرانی شہر قُم سے تعلق رکھنے والی اسمبلی آف سیمنری اسکالرز اینڈ ریسرچرز نے اپنے ایک بیان میں مجلس شوریٰ پر تنقید کی ہے۔

default

Kombobild Mir-Hossein Mousavi und Mahmoud Ahmadinejad

میرحسین موسوی اور محمود احمدی نژاد

بیان میں کہا گیا ہے کہ مجلس شوریٰ کو انتخابی تنازعے میں منصف بننے کا کوئی حق نہیں رہا اور اس کے بعض ارکان عوام کی نگاہ میں قائم اپنا غیرجانبدرانہ تشخص کھو بیٹھے ہیں۔

گزشتہ منگل کو 12 رکنی مجلس شوریٰ نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کئے دوبارہ انتخاب کی توثیق کر دی تھی۔ احمدی نژاد 12 جون کے صدارتی انتخابات کے نیتجے میں واضح اکثریت سے جیت گئے تھے۔ تاہم ان کے حریف امیدواروں نے انتخابی نتائج میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد پرتشدد مظاہرے چھڑ گئے تھے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے۔

مجلس شوریٰ کے خلاف بیان جاری کرنے والے علماء کو ا صلاح پسند خیال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجلس شوریٰ نے انتخابی نتائج میں بے ضابطگیوں کے بارے میں ہارنے والے امیدواروں میرحسین موسوی اور مہدی کروبی کی شکایات کو نظرانداز کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نتائج پر عوام کے احتجاج کو بھی تشدد سے دبایا گیا جس سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ اس دوران بیشتر کو گرفتار کیا گیا۔

ان اصلاح پسند علماء نے مظاہروں کے دوران گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اُدھر ایرانی

Iran Protest Wahl

احتجاجی مطاہروں کے دوران کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے

پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کےدوران ایک ہزار 32 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے ایک تہائی کو رہا کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ ملک میں اقتدار کی جنگ نہیں چل رہی۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار بعض افراد کے خاندانوں کے ساتھ اتوار کو ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے تلخیاں پیدا ہوئی ہیں اور اس صورت حال سے کوئی باشعور شہری مطمئن نہیں۔ 75 سالہ رفسنجانی میر حسین موسوی کے حامی ہیں۔

اُدھر ایران نے واشنگٹن ٹائمز کے یونانی صحافی کی رہائی کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ایران اتوار کو برطانوی سفارت خانے کے ایک اور اہلکار کو رہا کر دے گا۔ تہران میں گزشتہ دنوں برطانوی سفارت خانے کے نو اہلکاروں کو انتخابی نتائج کے بعد بدامنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

DW.COM