1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی صورت حال اور جرمن حکومت کا مؤقف

ایران کے اندر صدارتی انتخابات کے بعد عوامی ردِ عمل خاصی شدت کے ساتھ سامنے آ یا ہے۔ بیرون ایران بھی عالمی تٹویش میں اضافہ ہونے کے ساتھ سخت ردعمل پیدا ہوا ہے۔ اِس سلسلے میں امریکی صدر کے بعد جرمن چانسلر کا بیان ہے۔

default

ایرانی صدارتی الیکشن کے بعد مقبول ہونے والا بینر

ایران کے صدارتی انتخابات کے ایک ہفتے بعد بھی یہ ملک بحران سے دوچار ہے۔ ابتک تمام سیاسی قوتوں کے مابین ہونے والی مکالمت موجودہ صورتحال کو مزید سنگین بنانے میں کامیاب ہوئی ہے یا اختلافات کو بڑھا نے کا باعث بنی ہے۔ یہ الفاظ ہیں وفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ،جو انہوں نے برلن کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیہ میں کہے۔ انہوں نے تہران انتظامیہ کے ذمہ دار تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ حالت کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لئے ممکنہ اقدامات کریں۔ اشٹائن مائر نے کہا کہ جرمنی کے لئے نہ توایران میں احتجاجی مظاہروں نہ ہی میڈیا کی پابندی قابل قبول ہے۔

Iran Kombo Ahmadinedschad Chamenei und Dschannati

ایرانی قیادت کے اہم ستُون، آیت اُللہ العُظمیٰ خامنائی، گارڈین کونسل کے سربراہ آیت اُللہ جنتی اور صدر احمدی نژاد

جرمن وزیر خارجہ نے صدارتی انتخابات کے تنازعے کو فوری طور سے دور کرنے کا مطالبہ کیا ، جس کے لئے اشٹائن مائر کے مطابق حالیہ الیکشن میں ہونے والی بےضابطگیوں اور انتخابات کے نتائج کے بارے میں شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا۔

قبل ازایں وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے تہران حکومت سے حالیہ صدارتی انتخابات کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔ ایران کی صورتحال کے بارے میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے میرکل نے ایرانی عوام کو بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ میرکل نے کہا کہ جرمنی ایران کے عوام کے ساتھ ہے جو اپنی آزادئ رائے اور اجتماع کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

جرمن چانسلر نے ایرانی قیادت سے پرامن مظاہروں کی اجازت، احتجاجی مظاہروں پر تشدد بند کرنے، اپوزیشن کے گرفتار شدہ حامیوں کی رہائی اور میڈیا رپوٹنگ کو ممکن بنانے کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔ انگیلا میرکل نےکہا کہ انسانی اور شہری حقوق کے تحفظ کے قوانین ایران پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور تہران حکومت کو بھی اس کا احترام کرنا چاہئے۔

Bildmontage Khatami und Mousavi

سابق صدر محمد خاتمی اور میر حسین موسوی

دریں اثناء ایران نے بی بی سی کےتہران متعین نامہ نگار کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کی تصدیق بی بی سی نے کر دی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جون لئین پر ایران کی صورتحال کے بارے میں من گھڑت، جانبدار اور غلط بیانی پر مشتمل رپورٹنگ کے الزامات عائد ہیں۔ قبل ازیں برطانیہ نے تہران حکومت سے کہا تھا کہ وہ ایران کے موجودہ سیاسی بحران کو مغرب کی سازش سے تعبیر کرنے کی کوشش نہ کرے۔

اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امن کے قیام اور سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہونا چاہئے۔ ایران میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد اُنیس بتائی گئی ہے۔

Mohammad Ali Abtahi, parlamentarischer Stellvertreter des reformorientierten iranischen Staatspräsidenten Mohammad Khatami

ایران میں گرفتار ہونے والوں میں سابق نائب صدر محمد علی ابطاہی بھی شامل ہیں

ادھر ایران کے معتدل سیاستدان اور سابق صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ ایران مارشل لاء کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ خاتمی نے کہا کہ انہیں اس امر کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایرانی سکیورٹی ادارے اور فوج رفتہ رفتہ ملکی سیاست پر غاب آنے کی کوشش کر رہےہیں اُن کا یہ بیان ایران کے حالیہ صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے مخالف میر حسین موسوی کے ویب سائٹ کے ذریعے سامنے آیا ہے۔

سابق صدر محمد خاتمی، ہارنے والے صدارتی اُمیدوار میر حسین موسوی کے قریب ساتھی ہیں اور انہوں نے مظاہرین کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف تشدد کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے گرفتار شدہ اپوزیشن لیڈروں اور اُن کے حامیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جن میں خاتمی کے دور صدارت میں انکے نائب محمد علی ابطاہی بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں سابق ایرانی صدراکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فائزہ ہاشمی، اپنی بیٹی سمیت دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ بھی گرفتار کی لی گئی ہیں۔

خاتمی نے موبائیل اور ایس ایم ایس سمیت تمام مواصلامتی نظام کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ 13 جون سے ایران میں ان مواصلاتی ذرائع پر پابندی ہے۔ مقامی میڈیا کو بھی احتجاجی مظاہروں کی غیر قانونی کووریج سے باز رکھا گیا ہے۔