1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی صدارتی مہم اپنے عروج پر

ایران میں بارہ جون کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل صدر محمود احمدی نژاد اور ان کے حریف امیدوار میرحسین موسووی نے ایک ٹیلی ویژن مباحثہ میں حصّہ لیا۔

default

ایرانی انتخابات میں معاشی صورتحال اہم موضوع ہے

اس مباحثے میں احمدی نژاد نے سابق صدر رفسنجانی اور ان کے اہل خانہ پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئے۔

ایران کے دسویں صدارتی انتخابات سے قبل ملک کے حریف صدارتی امیدواروں کے مابین ٹیلی ویژن پر گزشتہ ہفتے ایک گرما گرم مباحثہ ہوا۔ موجودہ صدر محمود احمدی نژاد نے اس ٹیلی ویژن مباحثے میں سابق ایرانی صدر رفسنجانی کی غیر موجودگی میں ان پر کرپشن کے الزامات لگائے۔ سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے احمدی نژاد کی طرف سے ان پر عائد کئے جانے والے تمام الزامات کو ’’جھوٹ‘‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

Iran Wahl

نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موسووی کا ساتھ دیتی دکھائی دے رہی ہے

اس سلسلے میں رفسنجانی نے منگل کے روز ملک کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ آئی کے نام ایک خط بھی لکھا جس میں یہ الفاظ درج ہیں:’’ملک کے اندر اور باہر لاکھوں ایرانی شہری ان تمام جھوٹی باتوں کے گواہ ہیں جو محمود احمدی نژاد نے کہی ہیں۔ ان کی تمام باتیں غیر اسلامی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ ہیں۔‘‘

ایرانی آئین کے مطابق ریاست کے تمام معاملات پر فیصلوں سے متعلق آیت اللہ خامنہ آئی کو سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔

ٹیلی ویژن پر صدر احمدی نژاد کو سننے کے بعد ان کے حامیوں نے ایک انتخابی مہم کے دوران اکبر ہاشمی رفسنجانی کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔ 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد سے ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سابق صدر اور رفسنجانی جیسی شخصیت کے خلاف کھل کر ایسے نعرے لگائے گئے ہوں۔

Wahl im Iran Juni 2009

احمدی نژاد کے حامی

سابق صدر ہاشمی رفسنجانی ایرانی انقلاب کے دوران آیت اللہ روح اللہ خامنہ آئی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ وہ 1981ء سے 1989ء تک ایرانی پارلیمان کے سپیکر بھی رہے ہیں اور پھر 1989ء سے 1997ء تک ملک کے صدر بھی۔ رفسنجانی کا شمار موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے زبردست ناقدین میں کیا جاتا ہے۔

ٹیلی ویژن پر صدارتی امیدوار اور سابق وزیر اعظم میر حسین موسووی اور صدر احمدی نژاد کے مباحثہ کے بعد رفسنجانی نے ایرانی صدر کے ساتھ آیت اللہ خامنہ آئی کے انتقال کی بیسویں برسی کے موقع پر ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رفسنجانی نے احمدی نژاد سے کہا کہ وہ ان کے خلاف عائد کئے گئے بدعنوانی کے الزامات واپس لیں لیکن ایرانی صدر نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

جمعہ کے روز ملک میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں لیکن اس سے قبل تمام صدارتی امیدواروں کے مابین الفاظ کی جنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آیت اللہ خامنہ آئی نے گزشتہ ہفتے تمام صدارتی امیدواروں سے کہا تھا کہ وہ کسی کی ذات پر حملہ کرنے سے پرہیز کریں۔

سابق وزیر اعظم میر حسین موسووی کے علاوہ مہدی کروبی اور محسن رضائی بھی صدارتی امیدوار ہیں لیکن ان میں موسووی ہی ایک ایسے امیدوار ہیں جو احمدی نژاد کو ٹکر دے سکتے ہیں۔ ایران کی موجودہ اقتصادی حالت کے موضوع کو ایران کے صدارتی انتخابات میں زبردست اہمیت حاصل ہے۔

رپورٹ گوہر نذیر گیلانی

ادارت کشور مصطفیٰ