1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی صدارتی انتخابات، رائے دہی جاری

آج جمعہ کے روز ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر تک عوام کا زبردست جوش خروش دیکھنے میں آیا اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

default

انتخابی مہم میں ایرانی میڈیا نے کافی حد تک موسوی کی حمایت کی

ایرانی صدارتی انتخابات میں اصل مقابلہ موجودہ صدر اور قدامت پسند رہنما محمود احمدی نژاد اور ان کے حریف اعتدال پسند لیڈر میر حیسن موسوی کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ موجودہ صدر احمدی نژاد کو 2005 میں ہونے والے انتخابات میں غیر متوقع حد تک زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس بار ان انتخابات کو ایک طرح سے عوامی ریفرینڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا ایرانی عوام مغربی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں یا وہ محمود احمدی نژاد ہی کی پالیسیوں کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔

ایران میں آج جمعہ کے صدارتی الیکشن میں نوجوان ووٹروں کی رائے کو بھی اس بار خاص اہمیت حاصل ہے جو قدرے فیصلہ کن بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ ابھی ایک روز قبل ہی تہران میں ہزاروں نوجوانوں نے اعتدال پسند صدارتی امیدوار موسوی کی حمایت میں مارچ کیا تھا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ موسوی کی جیت کی صورت میں ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی اور امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے ایران کو نئے سرے سے دوطرفہ تعلقات شروع کرنے کی دعوت کے حوالے سے بھی پیش رفت ہو سکے گی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ صدر احمدی نژاد کے دور میں تہران پر امریکی پابندیوں اور برآمدات میں نمایاں کمی کے علاوہ افراط زر کی شرح اور بے روزگاری کے تناسب میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ یوں ایرانی عوام اس الیکشن میں ملک کے لئے معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی اپنی رائے دے دیں گے۔

ایران میں صدارتی الیکشن کے لئے ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے دس گھنٹوں تک جاری رہے گا۔ ان انتخابات میں ایران کے 46 ملین ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے براہ راست پیغام میں ایرانی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ان انتخابات میں اپنا ووٹ ضرور ڈالیں۔ ’’ہر شخص جائے اور ووٹ ڈالے اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرے۔‘‘

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق تہران میں لوگ لمبی قطاروں میں بہت منظم انداز سے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اپنی باری کا انتظار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایرانی مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پچھلے انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی غیر متوقع کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے بقول آج اگر ووٹروں کی انتخابی عمل میں شرکت کا تناسب زیادہ رہا تو موسوی کے صدر منتخب ہونے کے امکانات مقابلتا زیادہ ہوجائیں گے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM