1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی سلامتی کے لیے خطرہ، 100 قیدی ’معاف‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایرانی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کے الزام میں قید 100 افراد کی معافی کا اعلان کیا ہے۔ رہائی پانے والوں میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد بھی شامل ہیں۔

default

ہفتے کے روز سپریم لیڈر کا یہ فیصلہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر پر جاری کیا گیا ہے۔ اس خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ معاف کیے گئے ان قیدیوں میں سے 70 کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہی رہا کر دیا گیا، جبکہ باقی افراد وہ ہیں، جن کی سزا میں کمی یا منسوخی کی جا رہی ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اس حکومتی اعلان کا مقصد مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے احترام میں قیدیوں کی معافی ہے۔

خبر رساں ادارے مہر کے مطابق، ’سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 100 ایسے قیدیوں کو رہا کیے جا رہا ہے، جو ایرانی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کے الزام میں مختلف ایرانی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں کچھ وہ بھی ہیں، جو دو برس قبل صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں میں شریک تھے۔‘

Iran Teheran Proteste Flash-Galerie

ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے ہر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے

ایران میں جون سن 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب پر حکومت پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد ایران بھر میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ ان مظاہروں میں شریک سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں چند ایک کو سزائے موت سمیت دیگر سخت سزائیں بھی سنا دی گئی تھیں۔

اس رپورٹ میں معاف کیے جانے والے قیدیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ یہ تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں ہیں کہ آیا معاف کیے جانے والے قیدیوں میں وہ دو امریکی شہری بھی شامل ہیں، جنہیں گزشتہ ہفتے آٹھ برس کی قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ ان دونوں امریکی شہریوں پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ یہ عراقی سرحد کے ذریعے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوئے اور یہاں جاسوسی کے ذریعے خفیہ معلومات حاصل کر رہے تھے۔ ان دونوں امریکی شہریوں کا موقف تھا کہ وہ سرحد پر راستہ بھٹک جانے کے بعد ایرانی علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شامل شمس

DW.COM