ایرانی سفیر سمیت 15 سفارت کاروں کو کویت چھوڑنے کا حکم | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی سفیر سمیت 15 سفارت کاروں کو کویت چھوڑنے کا حکم

کویت نے ایرانی سفیر سمیت پندرہ سفارت کاروں کو اڑتالیس دنوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ کویت کی نیوز ایجنسی کونا کے مطابق ایرانی سفیر کو ثقافتی مشن کے ساتھ ساتھ دیگر دفاتر بند کرنے کا بھی کہہ دیا گیا ہے۔

کویتی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی سفارت کاروں کے ایک دہشت گروپ کے ساتھ مبینہ رابطوں کا پتہ چلنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ایران کے کویت میں فی الحال انیس سفارت کار موجود ہیں۔  ایرانی نیوز ایجنسی (اِسنا) نے اس حوالے سے لکھا ہے، ’’سعودی مداخلت پسند پالیسیوں کے دباؤ اور ایرانی مداخلت کے بے بنیاد الزامات کے تحت ایرانی سفیر علی رضا عنایتی کو اڑتالیس دنوں کے اندر اندر کویت چھوڑنے کا کہہ دیا گیا ہے۔‘‘

کویت کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب قطر اور عرب ملکوں کے مابین پہلے ہی سفارتی بحران جاری ہے۔ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے دہشت گردوں کی مبینہ حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کی بنیاد پر قطر کے ساتھ سفارتی روابط منقطع کر دیے تھے۔ ابھی تک کویت اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا۔

Kuwait Iranische Botschaft (Getty Images/AFP/Y. Al Zayyat)

ایرانی سفیر کو ثقافتی مشن کے ساتھ ساتھ دیگر دفاتر بند کرنے کا بھی کہہ دیا گیا ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئی پیش رفت کے بعد قطر کے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کویت بھی سعودی عرب کی حمایت کر سکتا ہے۔ کویتی حکام نے سن دو ہزار پندرہ میں ایک ایسے ’دہشت گرد گروہ‘ کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا، جس کے مبینہ طور پر ایران اور ایرانی حمایت یافتہ شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ساتھ روابط تھے۔

کویتی حکام نے اس گروہ کا نام ’العبدالی سیل‘ بتایا تھا اور اس سلسلے میں چھبیس افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان الزامات کے تحت کویت کی عدالت نے متعدد افراد کو قید کی سزائیں جب کہ ایک کو سزائے موت بھی سنا رکھی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:37

قطر کا بحران: کون کس کے ساتھ ہے؟

Audios and videos on the topic