1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت اور پاک ایران تعلقات

ایرانی پولیس کی طرف سے دس باڈر سیکورٹی گارڈز کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

برطانوی روزنامے گارڈین کے مطابق یہ حملہ جیش العدل نامی تنظیم نے کیا، جس کے بارے میں سیکورٹی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ وہ جنداللہ سے ٹوٹا ہوا ایک گروپ ہے، جس نے ماضی میں بھی ایرانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔ اس گروپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا القاعدہ کے ساتھ الحاق ہے اور اسے پاکستان، سعودی عرب، قطر اور چند دوسرے ممالک کے حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کی طرف سے ایران کو منانے کی کوششیں

ان الزامات کے بعد ایران مخالف پاکستانی تنظیموں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ تحفظِ حرمین کونسل کے رہنما انیب فاروقی نے ان الزامات پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایران خود دوسرے ممالک میں مداخلت کرتا ہے اور پاکستان پر الزام لگا رہا ہے کہ وہ جیش العدل کی مدد کر رہا ۔ پاکستان کا تو کوئی جنرل یا فوجی افسر کبھی بھی کسی ملک میں لڑتا ہوا نہیں پایا گیا لیکن ایران کے بارہ سینیئر افسران شام اور دوسرے ممالک میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔ تہران پاکستان کی (سعودی قیادت میں بننے والے) اسلامی ممالک کے اتحاد میں شمولیت پر چراغ پا ہے اور اب وہ اس طرح کے الزامات لگا کر پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اسلام آباد اس اتحاد سے نکل جائے۔‘‘

ایران کی حامی سمجھی جانے والی تنظیموں کا موقف ہے کہ اس طرح کے حملوں میں وہ ممالک ملوث ہیں، جو پاکستان اور ایران کے درمیان بہتر تعلقات نہیں چاہتے۔ القدس فاونڈیشن کے رہنما صابر کربلائی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایران اور پاکستان کے ہمیشہ سے بہتر تعلقات رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوری پیدا کرنے میں بھارت، امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کا ہاتھ ہے، جو دونوں برادر مسلم ممالک میں تلخیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں تہران اور اسلام آباد کو ضبط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور اس مسئلے کو سفارتی انداز میں حل کرنا چاہیے۔ یہ مناسب بات نہیں کہ ایرانی پولیس فوراﹰ ہی اس کا الزام پاکستان پر ڈال دے۔ دونوں ممالک کو اپنے دشمنوں پر نظر رکھنا چاہیے۔‘‘

تجزیہ نگارعامر حسین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں برادرانہ تعلقات نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ ریاستوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جن کا وہ ہر قیمت پر تحفظ کر ناچاہتی ہیں۔ اس مسئلے پر انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایران، بھارت اور افغانستان میں قربت بڑھتی جارہی ہے، جس کو پاکستان میں کچھ حلقے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب کہ پہلے پاکستان نے سعودی اتحاد سے تھوڑا فاصلہ اختیار کیا تھا اور بعد میں اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ وہ قدم ہے، جس کو ایران میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں پاکستان کی امید چین ہے۔ میرے خیال میں چین اگر چاہے تو ایران اور پاکستان کو قریب لا سکتا ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں تلخی بڑھے گی۔‘‘

لیکن سابق پاکستانی سفیر برائے ایران، فوزیہ نسرین اس رائے سے اتفاق نہیں کرتیں۔ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سرحدی علاقوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک نے انہیں سفارتی ذرائع استعمال کر کے حل کر لیا تھا۔ میرے خیال میں اب بھی یہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور بات کشیدگی کی طرف نہیں جائے گی۔ پاکستان نے ماضی میں بھی ایران کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر تعاون کیا ہے۔ جند اللہ کے رہنما عبدالمالک ریگی کی گرفتاری بھی پاکستانی تعاون سے ہوئی تھی۔ میں نے ایرانی پولیس کے الزامات نہیں پڑھے لیکن میرے خیال میں معاملات اتنے نہیں بگڑیں گے۔‘‘

معروف دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے ایرانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’یہ الزامات در الزامات کا سلسلہ کچھ وقت سے چل رہا ہے لیکن اگر ایرانی پولیس یہ کہتی ہے کہ دہشت گردوں نے لانگ رینج کے ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ توظاہر یہ لانگ رینج دس کلومیٹر تو نہیں ہوسکتی۔ایک آدھ کلو میٹر ہوگی۔ دہشت گرد تنظیموں پر تحقیق کرنے والوں کو یہ پتہ ہے کہ اس طرح کے ہتھیار عسکریت پسندوں کے پاس ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں غیر ریاستی عناصر پاکستان، ایران، بھارت اور خطے کے تمام ممالک کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ اسلام آباد ان کی حمایت کرے گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان کا ایران سے کوئی علاقائی تنازعہ نہیں ہے۔دونوں ممالک نے ماضی میں بھی معاملات سفارتی طور پر حل کیے اور اب بھی کر لیں گے۔ یہ الزامات عسکری اتحاد کے خلاف ناراضگی کا اظہار بھی ہوسکتا ہے لیکن پھر بھی مسئلہ بڑھے گا نہیں بلکہ حل ہوجائے کیونکہ صرف پولیس نے الزامات لگائے ہیں۔ تہران نے باقاعدہ طور پر اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔‘‘

ڈی ڈبلیو نے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا اور ایرانی سفارت کارسے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کیا لیکن انہوں نے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔

تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں ایرانی سیکیورٹی گارڈز کی ’شہادت‘پر اظہار افسوس کیا ہے اور ایرانی حکومت و عوام سے ان ہلاکتوں پر اظہارِ تعزیت کی ہے۔ یہ پیغام وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے ایرانی سفیر سے ملاقات کے دوران پہنچایا، جنہوں نے آج ان سے ملاقات کی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقے میں سلامتی کے لیے تعاون کو بڑھایا جائے گا اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے حکام رابطے میں ہیں۔

سعودی عرب میں حملے: کیا اسلام آباد اور ریاض پالیسی تبدیل کریں گے؟

DW.COM