1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایرانی سالِ نو: اوباما کی ایرانی حکومت پر تنقید

امریکی صدر باراک اوباما نے ایرانی سالِ نو کے موقع پر ایرانیوں کے لیے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ تہران حکومت کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی مخالفت کرنے والے جمہوریت پسند عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

default

’آپ کے ساتھ ہوں‘، امریکی صدر اوباما کا ایرانیوں کو پیغام

امریکی صدر برازیل کے دورے پر ہیں اور ان کا پہلے سے لکھا گیا یہ بیان ایران کے سالِ نو کے آغاز کے موقع پر وائٹ ہاؤس سے جاری کیا گیا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے: ’میں سمجھتا ہوں کہ کچھ اقدار عالمی ہوتی ہیں جیسا کہ پر امن اجتماع اور تعلقات کی خواہش، آزادی ِ اظہار اور اپنے رہنماؤں کا انتخاب‘۔

Iran weitet Atomprogramm aus

ایرانی حکمران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلتے رہے ہیں

امریکی صدر کے اس بیان کا مقصد ایرانی اپوزیشن کو اپنی حمایت کا یقین دلانا تھا جوکہ ایران میں مذہبی طبقے کی سخت گیر حکومت کے خلاف جمہوریت پسندی کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔

امریکی صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت پسند ایرانیوں پر تشدّد کرکے ایرانی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو تحفّظ دینے پر یقین رکھتی ہے نہ کہ عوام کے حقوق کی پاسداری پر ۔

Iran Proteste Opposition

ایران میں دو ہزار نو سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں

اوباما کہتے ہیں: ’ دو برس سے ایرانی حکومت تشدّد اور خوف و ہراس کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور امیر ہو یا غریب، نوجوان ہوں کہ بزرگ، مرد ہوں یا عورتیں، کوئی بھی ایرانی حکومت کے جبر سے محفوظ نہیں ہے۔ دنیا اس طرزِ عمل پر فکرمند ہے‘۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت پسند عوام کے مظاہروں نے کئی مطلق العنان حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے اور بعض مملک میں مظاہرے اور بغاوتیں اب بھی جاری ہیں۔

امریکی صدر نے امید ظاہر کی ہے یہ سال مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلیوں کا سال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی اس کی طاقت کا نہیں بلکہ کمزوری کا مظہر ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM