1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی حکومت کے سخت ناقد علی منتظری کی رحلت

دنیا میں شیعہ اسلام کی انتہائی معتبر اور بزرگ شخصیت آیت اللہ العظمیٰ حسین علی منتظری ایران کے شہر قم میں ستاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ حق گوئی و بیباکی کا مظہر تھے۔

default

حسین علی منتظری

سن 1979ء کے ایران میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے دوران متحرک جذبے کی حثیت کے حامل اور اسلامی ریاست کے خدرخال واضح کرنے والے آیت اللہ العظمیٰ حسین علی منتظری اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ اُن کے انتقال سے ایرانی حکومت کی پالیسیوں کو واشگاف انداز میں اسلامی اقدار سے منافی خیال کرنے والی آواز خاموش ہو گئی ہے۔ منتظری موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے انداز صدارت کو بھی انتہائی سخت لہجے سے مخاطب کرتے تھے۔ ایران کے اندر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کی نگاہ سے دیکھنے والوں کے وہ سرخیل تھے۔

اسلامی انقلاب کے بعد وہ انقلاب کے لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے جانشین قرار پائے تھے۔ لیکن سن 1989ء میں اُن کے خمینی اور اُس وقت کی حکومت کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملے پر اختلافات سامنے آنے لگے اور پھر اُن کو

Groß-Ayatollah Hossein Ali Montazeri

حسین علی منتظری

خمینی کے ایک فرمان کے بعد جانشینی سے برطرف کردیا گیا تھا۔ سن 1997میں اُن کو موجودہ مذہبی لیڈر خامنائی کے حکم پر حکومتی معاملات پر کڑی تنقید کی پاداش میں گھر پر ہی نظر بند کردیا گیا تھا۔ رواں سال کے صدارتی الیکشن کے نتائج کے بعد احمدی نژاد کی حکومت کے خلاف انہوں نے فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔

وہ گزشتہ بیس سالوں سے انقلاب کے بعد بننے والی حکومت کے انداز کو نامناسب خیال کرتے ہوئے اُسے مذہب کے نام پر آمریت یا ڈکٹیٹرشپ خیال کرتے تھے۔ اُن کی رحلت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے اندر ایک سیاسی بےچینی کی کیفیت پائی جا رہی تھی اور ایران کی اپوزیشن کو اُن کی موجودگی سے قلبی سکون ملتا تھا۔ اِس دوران حکومت نے اُن کے مضامین اور نام کو سکول اور کالجوں کے نصاب سے ختم کردیا تھا۔ مختلف شہروں کی وہ سڑکیں جن کے نام اُن سے منسوب تھے اُن کو بھی تبدیل

Iran Ayatollah Hossein Ali Montazeri

منتظری خطاب کرتے ہوئے

کردیا گیا تھا لیکن یہ تمام حکومتی اقدامات عوام کے اندر سے اُن کی حثیت و اہمیت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ عوام اِن حکومتی اقدامات کو درست نہیں سمجھتی تھی۔ وہ حکومتی پالیسیوں کو مذہبی اقدار کے منافی خیال کرتے تھے۔ وہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو اپنی مذہبی ڈیوٹی اور ذمہ داری قرار دیتے تھے۔

علی منتظری سن اُنیس سو بائیس میں پیدا ہوئے تھے۔ شاہی دور حکومت میں وہ کئی مرتبہ گرفتار ہونے کے بعد اذیت گاہوں میں رکھے گئے تھے۔ تمام تر ٹارچر سے اُن کی استقامت میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایران کے اندر صداقت و ایمانداری کے ساتھ ساتھ حق گوئی و بیباکی کا نمونہ قرار دیئے جاتے تھے۔ وہ مذہبی معاملات میں اتھارٹی تھے۔

حسین علی منتظری کے انتقال پر حکمران طبقے کو یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ اُن کی نماز جنازہ اور دوسری رسومات اپوزیشن کے اجتماعات کا مرکز بن سکتے ہیں۔ حکومت اس تناظر میں اس لئے دیکھ رہی ہے کہ منتظری ایران کے اندر اعتدال پسند طبقے کے لیڈروں کے ساتھ عوام کے لئے روح عصر تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ