1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایرانی حکومت کی خود اعتمادی: وجوہات کیا ہیں؟

ایرانی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے عائد کی گئی نئی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں سے جوہری پروگرام سے متعلق سفارت کاری کو دھچکا لگا ہے۔

default

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے چکے ہیں

تیل درآمد کرنے والے دنیا کے چوتھے بڑے ملک ایران پر اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور امریکہ متواتر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اس کے جوہری پلانٹس جوہری ہتھیاروں کی تیّاری میں مصروف ہیں۔ ایران نے ہمیشہ ہی کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہے ۔ مگر یورینیم کی افزودگی جیسے معاملے پر ایران کا بین الاقوامی برادری سے تعاون نہ کرنے اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی کو اس حوالے سے اہم معلومات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ایران کا جوہری پروگرام کے حوالے سے مقدمہ بین الاقوامی برادری میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔

Iran weitet Atomprogramm aus

ایران کی مقتدر قوتّیں تیل کی دولت سے مالامال ہیں

یورپی یونین کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں پر گو کہ حسبِ توقع ایرانی حکومت نے تنقید کی ہے، اس صورتِ حال کے پیش ِ نظر ایران کو معاشی طور پر تو نہیں مگر اخلاقی طور پر نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔


معاشی طور پر ایران کی مقتدر قوّتیں اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث خاصا منافع کما رہی ہیں اور ان کو داخلی حوالے سے بھی کسی بغاوت یا انقلابی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایران کی حمایت کے لیے روس اور چین جیسے ممالک موجود ہیں۔ ایرانی حکومت اس بات سے بھی واقف ہے کہ بین الاقوامی برادری تیل کی وجہ سے اس کی بڑی حد تک محتاج بھی ہے۔ غالباً یہی عوامل ہیں کہ ایرانی حکومت بین الاقوامی برادری کی جانب سے لگائی جانے والی آئے دن کی پابندیوں کے باوجود انتہائی پر اعتماد دکھائی دیتی ہے۔


ایسے میں ایرانی حکومت امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز میں امریکی افواج کے عہدیداروں کے اس بیان کو بھی خاطر میں نہیں لاتی کہ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ کے سو جنگی طیّاروں کی غیر معمولی مشقوں کا مقصد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیّاری کرنا تھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایرانی حکومت کو اس بات کی پرواہ کیوں نہیں ہے کہ اسرائیل انیس سو اکیاسی میں مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت کے ایک طاقت ور ملک عراق کی جوہری تنصیبات پر یک طرفہ حملہ کر چکا ہے۔یہی کاروائی اسرائیلی افواج نے گزشتہ ستمبر میں شام کی مبینہ جوہری تنصیبات پر بھی کی تھی۔


خود بین الاقوامی برادری بھی ایران کے مسئلے پر تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ کبھی ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں تو کبھی ایران کو اقتصادی مراعات کا پیکج پیش کیا جاتا ہے۔ ایران کی مقتدر طاقتوں کا غالباً یہ خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے جہاں امریکہ عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں میں بری طرح الجھا ہوا ہے، جہاں خود اسرائیل بھی ایک طرف غزّہ میں حمّاس کے ساتھ کشیدگی تو دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ کے خطرے سے دوچار ہے، اور سب سے بڑھ کر کمزور ہوتی ہوئی امریکی معیشت جیسے عوامل اسرائیل یا امریکہ کو ایران کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھانے سے باز رکھیں گے۔ مگر ایرانی حکومت یا کسی اور کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ صرف مضبوط معیشتوں کے بل پر ہی جنگیں نہیں لڑی جاتیں۔ کبھی کبھی کمزور ہوتی ہوئی معیشتیں بھی ملکوں اور قوموں کو جنگ کی جانب دھکیل دیتی ہیں۔