1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی حراست سے برطانوی بحریہ کے ارکان کی رہائی

برطانوی بحریہ کے 15 زیرِ حراست ملاحوں اور فوجیوں کے تنازعے میں لندن حکومت کے ساتھ بارہ روز تک کی سیاسی اور سفارتی کھینچا تانی کے بعد ایران نے اِن برطانوی شہریوں کو رہا کر دیا ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں اِن برطانوی شہریوں کو معافی دینے اور رہا کرنے کا اعلان کیا۔

ایرانی صدر احمدی نژاد برطانوی بحریہ کے ارکان کو حراست میں لینے والے ایرانی افسران کو تمغے دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر احمدی نژاد برطانوی بحریہ کے ارکان کو حراست میں لینے والے ایرانی افسران کو تمغے دے رہے ہیں۔

احمدی نژاد نے اعلان کیا کہ جو 15 برطانوی ملاح اور فوجی 23 مارچ سے ایران کے قبضے میں تھے، اُنہیں فوری طور پر رہا کیا جا رہا ہے۔

احمدی نژاد نے کہا کہ اُن کی نیوز کانفرنس ختم ہوتے ہی اِن پندرہ برطانوی شہریوں کو ایئرپورٹ لے جایا جائے گا اور وہ آج ہی واپس وطن روانہ ہو جائیں گے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے حق پر قائم رہتے ہوئے اِن 15 برطانوی شہریوں کو معافی دیتے ہوئے آزاد کر رہا ہے۔

برطانیہ اور امریکہ نے اِس پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

اِسی پریس کانفرنس میں احمدی نژاد نے ایرانی ٹیلی وژن پر اِن ملاحوں کے اعترافِ جرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر پر زور دیا کہ اِس جرم میں اِن ملاحوں پر کوئی مقدمے نہ چلائے جائیں۔

اُنہوں نے کہا، وہ مسٹر بلیئر پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی کشیدگی کو ہوا دینے، برطانیہ کے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید تر بنانے اور دیگر ممالک پر قبضہ کرنے کی بجائے انصاف اور اخلاقیات کی طرف لوٹ جائیں۔ ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ بڑی طاقتیں ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے حق سے محروم نہیں کر سکتیں۔