1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری پروگرام: IAEA کی تازہ رپورٹ جاری

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائےجوہری توانائی نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق حقائق چھپا رہا ہے۔

default

IAEA کے سربراہ محمد البرادئی

بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی IAEA نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تہران حکومت نے کہا تھا کہ قم شہر کے قریب پہاڑوں میں جوہری تنصیب کی تعمیر سن 2007 ء میں شروع کی گئی تھی تاہم IAEA کے پاس شواہد ہیں کہ یورینیم کی افزودگی کی اس تنصیب کی تعمیر سن 2002ء میں شروع ہوئی تھی۔

پیر کے دن جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق تہران کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق قم میں قائم کی گئی جوہری پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کا عمل سن 2011 ء سے شروع کیا جانا تھا تاہم یہ کام فراہم کی گئی معلومات سے پہلے ہی کر دیا گیا۔ اس ثبوت کی بنا پر IAEA نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جیسے تہران نے اپنے اس مںصوبے کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کیں اسی طرح وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں حقائق چھپا رہا ہو۔

ایران کا کہنا ہے کہ قم میں تعمیر کی گئی جوہری تنصیب دراصل ان کے نتانز نامی مرکزی جوہری پلانٹ کا ہی ایک حصہ ہے، اور اس کی تعمیر کا مقصد یہ تھا کہ کسی دشمن ملک کی طرف سے نتانز کو اگر تباہ کر دیا جائے تو، توانائی کے حصول کے لئے ایک متبادل پلانٹ موجود ہو۔

ایران کےمطابق اس پلانٹ کی تعمیر سابق امریکی صدر بش کے دور میں کی گئی تھی جب ایران پر عالمی دباؤ بہت زیادہ تھا۔ تاہم IAEA کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنصیب نے سن 2002 ء میں اُس وقت کام شروع دیا تھا جب ایران کا جوہری پروگرام عالمی توجہ کا مرکز نہیں بنا تھا۔

Ahmadinejad mit Uran Zentrifugen

ایرانی صدر نتانز جوہری پلانٹ میں

ایران نے اس تنصیب کے بارے میں IAEA کو اس سال ستمبر میں اس وقت معلومات فراہم کیں، جب امریکی، فرانسیسی اور برطانوی سیکرٹ سروسز نے اس تنصیب کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کر لی تھیں۔

بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ قم میں قائم کی جانے والی جوہری تنصیب کےبارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے نتیجے میں اعتماد سازی کی فضا متاثر ہوئی ہے۔

اس صورتحال میں IAEA نے ایران سے وضاحت طلب کی ہے کہ قم کے جوہری پلانٹ کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ ملک میں قائم دیگر جوہری تنصیبات کی طرح اس تنصیب میں بھی پر امن سول مقاصد کے لئے ایندھن تیار کیا جا رہاہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قم میں قائم جوہری پلانٹ چھوٹا ہے اور کافی کم رقبے پر تیار کیا گیا ہے اس لئے یہاں کم درجے کی یورینیم کی افزدوگی زیادہ مناسب ہے جو جوہری بم کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے کہا ہے کہ اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران حکومت اپنے جوہر ی پروگرام سے متعلق عالمی ذ‌مہ داریاں نہیں نبھا رہا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان آئن کیلی نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران ثابت کرے کہ وہ عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے۔ کیلی نے کہا کہ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھاتا رہے گا تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM