1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری پروگرام ، اڑتالیس گھنٹے اہم

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ایران اقوام متحدہ کے تیار کردہ مجوزہ معاہدے پر دستخط کر دے گا۔ ساتھ ہی یہ امید بھی کی جا رہی ہےکہ ایران کچھ نئے مطالبات بھی سامنے رکھے گا۔

default

سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلٹ اور یورپی یونین میں خارجہ امور کے نگران خاویر سولانہ

ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایران کو اب جلد کسی لائحہ عمل کا اعلان کرنا ہوگا۔ مزید انتظار وقت کا ضیاع ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز لسکمبرگ میں ہونے والی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں ایران سے واضح پالیسی اپنانےکا مطالبہ کیا گیا، جس کے تحت اسے اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ اپنی کم افزودہ یورینیم مزید افزودگی کے لئے روس بھیجے۔

اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے فرانسیسی وزیرخارجہ بیرنار کوشنیرکا کہنا تھا کہ" ایران پہلے ایک اعلان کرتا ہے پھر دوسرا، میری نظرمیں ایران کا یہ عمل مثبت نہیں ہے"۔

اسی میٹنگ میں لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جین ایسلبرن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین وزرائے خارجہ اس بات پرمتفق ہیں کہ ایرا ن کے ساتھ مزید بات چیت ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اب ایران بین الاقوامی برادری کے ساتھ مزید کھیل نہیں سکے گا۔

پیر کے روز ہونے والی اس میٹنگ نے جہاں یورپی یونین کی بے چینی اور معاملے کی سنجیدگی کو ابھارا وہیں آج منگل کے روز ایرانی مؤقف میں بھی نرمی کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ایران اقوام متحدہ کے تیار کردہ مجوزہ معاہدے پر دستخط کردے گا۔ ساتھ ہی یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ ایران کچھ نئے مطالبات بھی سامنے رکھے گا۔

یاد رہے اسی ماہ ایران اورجوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے مابین ہونے والی گفتگو اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ ایران اپنی کم افزودہ یورینیم کو مزید افزودگی کے لئے روس بھیجے گا۔ دوسرے مرحلے میں 20 فیصد تک افزودہ اس یورینیم کو فیول پیلٹس میں منتقل کر نے کے لئے فرانس لے جایا جائے گا۔ واضح رہے کہ مغربی ممالک اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ اس سارے عمل میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو صرف پر امن مقاصد تک ہی محدود رکھے۔