ایرانی جوہری سائنسدان تختہ دار پر چڑھا دیے گئے | حالات حاضرہ | DW | 07.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری سائنسدان تختہ دار پر چڑھا دیے گئے

ایران میں ایک جوہری سائنسدان شھرام امیری کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکا کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

شہرام امیری کے خاندان والوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور کچھ بیرون ملک میڈیا کو اس ماہر جوہری طبیعیات کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک نامعلوم مقام پر شھرام کو پھانسی دی گئی اور اُس کی لاش کو کرمانشاہ منتقل کر دیا گیا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان غلام حُسین محسنی کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شھرام امیری کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکا کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں یہ سزا دی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ محسنی امریکا سے واپس ایران آئے تھے اور اپنے وطن آکر روپوش ہو گئے تھے۔ غلام حُسین محسنی نے یہ نہیں بتایا کہ شھرام کو پھانسی کب اور کہاں دی گئی تاہم انہوں نے بتایا کہ شھرام کی پھانسی کی ابتدائی سزا پر ایک اپیل کورٹ نے نظر ثانی کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شھرام کو ایک وکیل تک رسائی بھی حاصل تھی۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حُسین محسنی کے بقول، ’’امیری نے دشمن کو اپنے ملک کی چند بنیادی اور اہم ترین معلومات فراہم کی تھیں۔‘‘

ایران کے ماہر طبعیات اور جوہری سائنسدان شھرام امیری کے گھر والوں نے چند فارسی زبان کے نشریاتی اداروں کے ساتھ رابطہ کر کے یہ اطلاع دی تھی کہ شھرام کو گزشتہ بُدھ کے روز پھانسی دے دی گئی تھی اور اُس کے جسد خاکی کو کرمانشاہ پہنچا دیا گیا تھا جہاں اُسے سُپرد خاک کیا جا چُکا ہے۔

امیری ایران کی وزارت دفاع سے منسلک ایک یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ 2009 ء میں وہ سعودی عرب میں اچانک لاپتہ ہو گئے تھے۔ ایک سال بعد وہ امریکا میں بنی ہوئی چند ویڈیو فلموں میں نمودار ہوئے۔ اُس کے بعد وہ واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارتخانے کے اُس شعبے کے پاس پہنچے، جس کا کام ایران سے متعلق امور کی نگرانی تھا۔ وہاں انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس اُن کے ملک پہنچا دیا جائے۔ ایران واپسی پر شھرام کا بطور قومی ہیرو استقبال کیا گیا تھا۔

Iran Atomphysiker Shahram Amiri offenbar getötet

شھرام امیری کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکا کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں یہ سزا دی گئی ہے

شھرام امیری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُنہیں سعودی اور امریکی جاسوسوں نے اغوا کر کے اُن کی مرضی کے بغیر اپنی تحویل میں رکھا جبکہ امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شھرام نے امریکا کو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں نہایت اہم معلومات فراہم کی تھیں، جن کے عوض اُنہیں کئی ملین امریکی ڈالر ملنا تھے۔

جولائی 2010 ء میں وطن واپسی پر ایک بیان دیتے ہوئے شھرام نے کہا تھا، ’’میں ایک ادنا سا محقق ہوں، جو امریکی یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا، میں کسی قسم کی جاسوسی میں ملوث نہیں ہوں۔ میرے پاس کوئی خصوصی معلومات موجود نہیں تھیں۔‘‘

1977 ء میں پیدا ہونے والے شھرام امیری کی وطن واپسی کے بعد سے اُن کے بارے میں بہت ہی محدود اطلاعات سامنے آتی تھیں۔ شھرام کے والد اصغر امیری نے ایک مرتبہ ایک غیر ملکی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ شھرام کی ایران واپسی کے بعد سے اُنہیں کسی نا معلوم مقام پر رکھا گیا تھا۔