1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ نہ کیا جائے، روس اور چین پر دباؤ

ایران کی جانب سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے منتخب ممبر ملکوں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت پر بین الااقوامی سطح پر ہلچل پائی جاتی ہے۔ مختلف حلقے روس، چین اور یورپی یونین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دعوت رد کریں گے۔

default

علی اکبر صالحی: فائل فوٹو

بعض مغربی سفارتکاروں کی جانب سے اس خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روس، چین اور یورپی یونین کو اُس ایرانی دعوت کا جواب منفی میں دینا چاہیے، جس میں جوہری تنصیبات کے دورے کا کہا گیا ہے۔ اسی ماہ میں متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کا اگلا دور طے ہے اور ایران اس سے قبل بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے سے منسلک رکن ملکوں کو اپنی جوہری تنصیبات کے دورے کی دعوت کو عملی شکل دینا چاہتا ہے۔

مغربی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ جوہری تنصیبات کے معائنے کا اختیار انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا صوابدیدی معاملہ ہے اور اس کو ایران کی دعوت سے نتھی کرنا اس اختیار کی نفی ہوتی ہے۔ اس احساس کے ساتھ بعض مغربی سفارتکار خواہش رکھتے ہیں کہ یہ دعوت قبول نہ کی جائے اور خاص طور پر چین اور روس اس دعوت کو رد کر کے ایرانی پیش رفت کی حوصلہ شکنی کریں۔

یورپی یونین کی جانب سے ایرانی دعوت پر کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ ایسا کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنا انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کام ہے۔ اس مناسبت سے تفصیلی جواب ابھی دینا باقی ہے۔ یورپی یونین کے ششماہی صدارت کے حامل ملک ہنگری کو بھی دعوت نامہ دیا گیا ہے۔ ہنگری کی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

IAEO Iran Atom

سن 2009 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروں نے ایرانی جوہری مقامات کا دورہ کیا تھا

اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں کئی مغربی سفارتکاروں نے اپنا نام مخفی رکھ کر ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ روس اور چین کی جانب سے ایرانی تنصیبات کے دورے سے مایوسی ہو گی اور وہ کسی طور ان ملکوں کی جانب سے ایرانی دورے کی دعوت قبول کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ تاحال ابھی یہ واضح نہیں کہ روس اور چین نے ایرانی دعوت کو قبول کیا ہے یا نہیں۔

ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات کی دعوت جن ملکوں کی دی گئی ہے ان میں برازیل اور ترکی بھی شامل ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ دعوت وصول کرنے والے ملکوں میں چین اور روس کے علاوہ مصر، کیوبا، وینزویلا، الجزائر کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، فرانس اور برطانیہ کو ایرانی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ ملک ایران پر پابندیوں کے حامی ہیں۔

ایرانی جوہری تنصیبات کے لئے دورے کی مقررہ تاریخ پندرہ اور سولہ جنوری رکھی گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس