1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے کے لئےاسرائیل کی جنگی مشقیں

ایران کے خلاف ممکنہ حملے کے لئے اسرائیل نے بڑے پیمانے پرفوجی مشقیں کی ہیں۔ تہران کے لئے یہ ایک واضع اشارہ ہے کہ اسرائیل اس کے خلاف فوجی اقدامات اٹھانے کے لئے بالکل تیار ہے۔

default

امریکی اخبار 'دی نیویارک ٹائمز' کے مطابق رواں برس جون کے پہلے ہفتے میں ایک سوسے زائد اسرائیلی جنگی طیاروں‘ ایف سولہ اورایف پندرہ نے یونان اورمشرقی ساحلی علاقوں میں جنگی مشقیں کی ہیں۔ ان مشقوں میں حصہ لینے والے ہیلی کاپٹروں اورفضا میں ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں نے پندرہ سو کلومیٹرتک کا فاصلہ طے کیا۔ ایرانی ایٹمی تنصیبات اوراسرائیل کے درمیان فاصلہ بھی پندرہ سو کلومیٹرہے۔

دفاعی ماہرین کے خیال میں ان جنگی مشقوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے کے سلسلے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

دفاعی امور کے ایک اعلی امریکی عہدےدار کے مطابق اسرائیلی مشقوں کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ حملے میں اپنی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔ اورتہران کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگرایران نے اپنا جوہری پروگرام تمام تربین الااقوامی مطالبات کے باوجود بند نہ کیا تواسرائیل طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

Israel lehnt Einstellung der Angriffe ab

اسرائیلی ایف سولہ جیٹ طیارے

تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان نے جنگی مشقوں کے مقاصد کی تفصیلات کے بارے میں صرف اتنا کہا کہ یہ فوج کی معمول کی تربیت کا حصہ تھیں اور ان کا مقصد ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیاری کرنا تھا۔

اسرائیل کی نظر میں ایران اس کی سلامتی اور بقاء کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے جبکہ موجودہ تہران حکومت اسرائیل کو ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

Revolutionsgarde im Iran

ایران کے انقلابی حفاظتی دستے

چند روز قبل ہی اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ اورسابقہ وزیرِدفاع شاوٴل موفاز نے کہا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام بند نہیں کرتا تو اس کی ایٹمی تنصیبات پرحملہ کیا جانا چاہیے۔ جبکہ اسرائیل کے دیگرسیاستدانوں نے موفاز کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور اس پر شدید نکتہ چینی کی۔

اسرائیل کے موجودہ وزیرِدفاع ایہود باراک نے بیس جون کوفرانسیسی اخبار 'لی موند' کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کوایٹم بم کے حصول سے روکنے کے لئے کوئی بھی راستہ خارج ازامکاں نہیں ہے۔

BdT Israel Feier zum 60. Unabhängigkeitstag

اسرائیلی جنگی طیارے

دوسری طرف ایرانی رہنما آیت اللہ احمدخاتمی نے جمہ کے خطبہ میں خبردارکیا ہے کہ اگرایران کے دشمنوں‘ بالخصوص اسرائیل نے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تواس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔ اور دشمن یہ بات سوچنے پر مجبورہوجائے گا کہ اس نے ایسا منصوبہ کیوں بنایا؟

ایران تمام دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی فضائی اورسمندری حدود کی نگرانی مذید سخت کردی ہے۔ ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی سیکورٹی سخت کرتے ہوئے روسی ساخت کے دو ایسے راڈار نصب کئے ہیں جوکہ نچلی سطح پر پرواز کرنے والے طیاروں کا بھی سراغ لگا سکتے ہیں۔

اسرائیل مشرقِ وسطٰی میں پہلے بھی دو مشکوک ایٹمی تنصیبات تباہ کرچکا ہے۔ سن انیس سو اکیاسی میں اسرائیلی فضائیہ نے عراق کی ایٹمی تنصیبات پرحملہ کیا تھا اوردوہزارسات میں شام کی جوہری تنصیبات تباہ کردی گئی تھیں۔