1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری تنازعے پر امریکہ، روس اور فرانس کی مشاورت

ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین متنازعہ جوہری پروگرام کے مجوزہ منصوبے پر امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے فرانسیسی اور روسی ہم منصب سے قریبی تعاون کی یقین دہانی حاصل کر لی ہے۔

default

Iran Präsident Mahmud Ahmadinedschad in Teheran

ایرانی صدر احمدی نژاد

باراک اوباما نے ہفتہ کو فرانس کے صدر نکولا سارکوزی اور روس کے صدر دیمتری میدویدیف سے ٹیلی فون پر بات کی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایران اورجوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے IAEA کے مابین بیرون ملک یورینیم کی افزودگی سے متعلق معاہدے پر تنیوں ممالک کا موقف یکساں ہے۔

IAEA نے ایران، روس، امریکہ اور فرانس کو ایک مجوزہ مسودہ دیا ہے، جس کے تحت تہران حکومت اپنے ایک میڈیکل ری ایکٹر کے لئے درکار کم درجے کی یورینیم فرانس اور روس بھیج سکتی ہے، جہاں اس کی افزودگی کے بعد اسے واپس ایران کو دیا جائے گا۔ ویانا میں مغربی طاقتوں سے مذاکرات کے بعد اس ڈیل کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے ایران نے جمعہ تک کی مہلت مانگی تھی تاہم بعدازاں ایرانی حکام نے کہا کہ اس ڈیل کے مختلف پہلوؤں پر غور کے لئے انہیں مزید وقت درکار ہے۔ اب ایران نے اس ڈیل پر کوئی حتمی جواب دینے کے لئے مزید ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔

وائٹ ہاؤس کےطرف سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس اور امریکہ، باہمی خدشات کی بناء پر ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر قریبی تعاون برقرار رکھیں گے۔ اس پر امریکی صدر بارک اوباما نے فرانس اور روس کے تعاون کو سراہا۔

دوسری طرف ہفتہ کو ایرانی پارلیمان کے متعدد اعلٰی ارکان نے مغربی طاقتوں کے ساتھ مجوزہ ڈیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسپیکر علی لاریجانی نے IAEA کی بیرون ملک یورینیم افزودگی سے متعلق تجویز کو دھوکہ دہی قراردیا ہے۔ اس تجویز پر ایرانی اعلیٰ قیادت کی جانب سے یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ڈیل کو پہلی مرتبہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے تجویز کیا تھا اور بعد ازاں امریکہ، روس اور فرانس نے اس کی حمایت کی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کا خدشہ دور کیا جائے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتا۔ مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو اس حد تک بڑھا رہا ہے کہ اس سے آخر کار جوہری ہتیھار تیار کئے جا

Barack Obama in Cairo

امریکی صدر باراک اوباما

سکیں۔ تاہم ایران ہمیشہ ہی کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرا م پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

درییں اثناء جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے IAEA کے جوہری معائنہ کاروں کا چار رکنی وفد ایرانی جوہری تنصیبات کی جانچ پڑتال کے لئے تہران پہنچ گیا ہے۔ وہ شہر قم کے نواح میں تعمیر کئے گئےایک نئےجوہری ری ایکٹر کا معائنہ کریں گے۔ یہ وفد تین دن تک ایران میں قیام کرے گا۔

اس خصوصی مشن کو مغربی ممالک اور ایران کے مابین اعتماد سازی کی طرف ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یکم اکتوبر کو جنیوا میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی نے ایران کے ساتھ اس مشن پر اتفاق ہوا تھا۔ اسی ملاقات کے دوران ہی بیرون ملک یورینیم افزودگی سے متعلق تجویز دی گئی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM