1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی تاریخ کی بد ترین بدعنوانی، احمدی نژاد دباؤ میں

ایران کے سخت گیر موقف کے حامل صدر محمود احمدی نژاد ان دنوں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن کے سلسلے میں سخت سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں احمدی نژاد نے بدعنوانی سے لڑنے کا عزم کیا تھا۔

default

دو اعشاریہ چھ بلین ڈالر کے فراڈ کی سیاسی جہتیں اس میں ملوث افراد کے ساتھ ایرانی رہنماؤں کے قریبی تعلقات کی وجہ سے برآمد ہوئی ہیں۔ اس فراڈ کے حوالے سے صدر محمود احمدی نژاد کے چیف آف اسٹاف اسفندیار رحیم مشایی  پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر معاملے کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک سابق اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ’’اب احمدی نژاد کے ہاتھ بھی فراڈ سے رنگے ہوئے ہیں۔ عوام کی نگاہ میں وہ کمزور ہو چکے ہیں۔ وہ اب اتنے مضبوط نہیں کہ اگلے (مارچ سن 2012) کے پارلیمانی انتخابات کے لیے کوئی زبردست سیاسی قدم اٹھا سکیں۔‘‘

Flash Galerie Mahmud Ahmadinedschad UNO 2011

ایرانی عدلیہ کے مطابق ملک میں اس سطح کی بدعنوانی مختلف افراد کی’پشت پناہی کے بغیر‘ ممکن نہیں۔

سخت گیر موقف کے حامل سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ فراڈ کا یہ معاملہ عوام کے سامنے لانے کی منظوری ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دی۔

ایران کے ایک ماہر معاشیات نے کہا، ’’احمدی نژاد کے حامی اگلے انتخابات میں فتح چاہتے ہیں اور خامنہ ای کے حامی ان کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ یہی اس معاملے کے عوامی سطح پر سامنے آنے کی وجہ ہے۔ ظاہر ہے عوام انہیں ووٹ نہیں دیں گے، جن کے بدعنوان افراد سے تعلقات ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد بدعنوان افراد کی معاونت کے الزامات میں گھرے اسفندیار مشایی کو سن 2013 کے صدارتی انتخابات میں اپنا جانشین بنانا چاہتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: افسر اعوان

DW.COM