1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی ایٹمی ڈیل کی منسوخی ٹرمپ کی فاش غلطی ہو گی، جان برینن

امریکا کی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کے عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہوتے ہوئے سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کی منسوخی نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک فاش غلطی ہو گی۔

USA Donald Trump (Reuters/C. Allegri)

ڈونلڈ ٹرمپ

برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ تیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اپنی انتخابی کامیابی سے قبل رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ منتخب ہو کر ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کی دستاویز ہی پھاڑ دیں گے۔

’توثیق شدہ معاہدے پر دوبارہ بات چیت ممکن نہیں‘

ایران کی اقتصادی مشکلات کم نہیں ہوئیں
’امریکا اپنے وعدوں کا احترام نہیں کر رہا‘ ایران کی شکایت

امریکا کا اگلا صدر منتخب ہو جانے کے بعد ٹرمپ کے بیانات میں اگرچہ کچھ احتیاط پسندی دیکھنے میں آ رہی ہے تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئی۔

John Brennan CIA (Getty Images)

جان برینن

اس حوالے سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے تہران کے ساتھ معاہدے کی کسی دستاویز کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا  ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’ بہت بڑی غلطی‘ ہو گی۔

برینن نے کہا کہ اس طرح یہ امکان اور زیادہ ہو جائے گا کہ ایران اور دیگر ممالک اپنے لیے جوہری ہتھیار حاصل کر سکیں گے۔

جان برینن  نے برطانوی نشریاتی ادارے کے دیے گئے اور آج بدھ کو نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’اس طرح ایران ممکنہ طور پر ہتھیاروں کا اپنا ایک نیا پروگرام شروع کر سکے گا۔ اور پھر خطے کے دوسرے ممالک بھی یہ کوشش کریں گے کہ وہ بھی ایسی ہی ایٹمی پروگرام شروع کر سکیں۔‘‘

سی آئی اے کے سربراہ نے کہا، ’’اسی وجہ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ واشنگٹن کی طرف سے تہران کے ساتھ جوہری ڈیل کی منسوخی امریکی وائٹ ہاؤس میں اگلی انتظامیہ کا انتہائی غیر دانش مندانہ اقدام ہو گا۔‘‘

اپنے اس انٹرویو میں جان برینن نے یہ بھی کہا کہ شام کے خونریز تنازعے کو حل کرنے کی کاوشوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ روس کے ساتھ مل کر کوششیں کرتے ہوئے بھی بہت محتاط رہنا ہو گا۔ برینن نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ انتطامیہ کے دور میں واشنگٹن اور ماسکو کے باہمی تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔

اپنے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے برینن نے کہا، ’’نو منتخب صدر ٹرمپ اور اگلی امریکی انتظامیہ کو روس کے وعدوں کے حوالے سے بہت محتاط رہنا ہو گا۔ میری رائے میں روسی وعدوں کے نتیجے میں ہمیں وہ نتائج نہیں مل سکے، جن کی ماسکو نے یقین دہانی کرائی تھی۔‘‘

جان برینن ابھی تک سی آئی اے کے ڈائریکٹر ہیں لیکن وہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ جنوری میں اس وقت اپنی موجودہ ذمے داریوں سے علیحدہ ہو جائیں گے، جب ڈیموکریٹ باراک اوباما کے دور صدارت کی دوسری مدت پوری ہو گی اور ریپبلکن ٹرمپ انتظامیہ اقتدار میں آ جائے گی۔

DW.COM