1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی ایٹمی سائنس دان محمدی بم دھماکے میں ہلاک

ایران میں منگل کے روز ایک بم دھماکے میں ملک کے معروف جوہری سائنس دان مسعود علی محمدی ہلاک ہوگئے۔ تہران کے سرکاری میڈیا نے فوراً اس واقعے کے لئے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

default

ایران کے جوہری سائنس دان ڈاکٹر مسعود علی محمدی

اطلاعات کے مطابق شمالی تہران میں محمدی کی رہائش گاہ کے باہر ایک موٹر سائیکل میں چھپائے گئے بارودی مواد کا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایٹمی سائنس دان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ علی محمدی تہران یونیورسٹی میں بطور لیکچرر کام کرتے تھے۔

ایرانی میڈیا نےکسی طرح کے ذرائع کا حوالہ دئے بغیر الزام عائد کیا کہ ’’سائنس دان محمدی کی ہلاکت کے لئے امریکہ اور اسرائیل کے زر خرید ایجنٹ ذمہ دار ہیں۔ ‘‘ امریکہ نے سائنس دان کی ہلاکت سے متعلق ایرانی الزامات کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

Universität für Wissenschaft und Technologie Iran

تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مرکزی گیٹ

تہران حکومت کے وکیل استغاثہ عباس جعفری دولت آبادی نے خبر رساں ادارے ISNA کو بتایا کہ مسعود محمدی جوہری توانائی کے لیکچرر تھے۔ اُن کے مطابق دھماکے کے وقت سائنس دان اپنی موٹر کار میں سوار ہو رہے تھے۔ دولت آبادی کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔’’عدالت نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس واقعے کے سلسلے میں تاحال کوئی مشتبہ شخص گرفتار نہیں ہوا ہے۔‘‘ یونیورسٹی عہدے داروں کے مطابق علی محمدی ایک غیر سیاسی شخصیت تھے۔

Iranische Revolutionsgarden

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز

ایران میں بم یا خودکش حملوں کے واقعات عام نہیں ہیں تاہم ابھی چند ہی ماہ پہلے ملک کے شورش زدہ مشرقی صوبے سیستان،بلوچستان میں باغیوں کے حملوں میں انقلابی گارڈز کے کئی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ دریں اثناء منگل کے واقعے کے بارے میں خبر ایجنسی AP نے بتایا کہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ آس پاس عمارتوں کے شیشے چکنا چور ہوگئے۔

ادھر ایران میں عربی زبان کی چینل ’العالم‘ نے ایٹمی سائنس دان محمدی کو ایک ایسا اُستاد قرار دیا، جو ایرانی حکومت کا سخت گیر حامی تھا۔ ’العالم‘ چینل نے اس واقعے کے حوالے سے ’’منافقین‘‘ اور ’’اسرائیلی ایجنٹوں‘‘ پر شبہ ظاہر کیا۔

ایران میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے لئے اکثر و بیشتر امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار قرار دئے جانے کی روایت ہے۔ تہرانی حکام تسلسل کے ساتھ امریکہ پر ایران کے اندر عدم استحکام اور انتشار پھیلانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت کئی اور مغربی ملک ایران کے جوہری بم تیار کرنے کے مبینہ ارادوں کو ’’عالمی امن کے لئے ایک بڑا خطرہ‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ مغربی ملکوں کے مطابق ایرانی حکومت ایٹم بم بنانے کی تیاری میں ہے جبکہ تہران کا دیرینہ موقف ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام بالکل پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM