1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی ایٹمی تنازعے میں نئی پیش رفت

ایران کی ترکی اور برازیل کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کی ڈیل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس مناسبت سے ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو مطلع بھی کر دیا ہے۔

default

ایران، ترکی اور برازیل کے درمیان ہونے والی ڈیل: فائل فوٹو

ایران کی ترکی اور برازیل کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کی ڈیل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس کو اعتماد سازی میں مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس مناسبت سے ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو مطلع بھی کر دیا ہے۔

یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران عالمی ادارے (IAEA) میں ایران، ترکی اور برازیل کے وفود نے ایک خط پیش کیا ہے جس میں ایرانی یورینیم کی افزودگی سے متعلق معاہدے کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ خط انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو کو پیش کیا گیا۔ ایران کی نمائندگی علی اکبر صالحی کر

Ahmadinejad mit Uran Zentrifugen

ایرانی صدر نتناز کے جوہری مرکز کے دورے پر: فائل فوٹو

رہے تھے۔ ایران نے دوسرے ممالک میں اپنے یورینیم کی افزودگی کا معاہدے گزشتہ ہفتے کے دوران سترہ مئی کو کیا تھا۔ پیش کئے گئے خط پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس خط کے پیش کئے جانے سے متعلق پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ایران کی برازیل اور ترکی کے ساتھ ہونے والی ڈیل کی توثیق کر دیتا ہے تو یہ اعتماد سازی میں معاونت کرے گا اور ایرانی جوہری پروگرام پر عالمی برادری کی تعطل کی شکار بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بھی روشن کر دے گا۔ بان کی مون کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں بہت زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور یونہی عالمی برادری کے خدشات میں کمی واقع ہو گی۔ بان کی مون کے مطابق وہ اس ڈیل پر ترک وزیر اعظم کے ساتھ صومالیہ کانفرنس کے موقع پر استنبول میں گفتگو کر چکے ہیں اور برازیلی صدر کے ساتھ وہ اس بارے میں آئندہ جمعرات کو بات چیت کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس معاہدے کے لئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

Iran Russland Atomanlage in Bushehr

ایرانی شہر بوشہر کا جوہری مرکز: فائل فوٹو

اس مناسبت سے گزشتہ سال اکتوبر میں واشنگٹن، پیرس اور ماسکو نے ایران کو پیشکش کی تھی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے لئے یورینیم کی افزودگی کسی دوسرے ملک میں کروائے اور پھر ان ایٹمی مادوں کو واپس اپنے ملک لا کر انہیں استعمال کرے۔ خاص طور پر یہ افزودہ یورینیم تہران کے جوہری ری ایکٹر کے لئے مختص ہو گا جو نیوکلیئر میڈیسن کے شعبے میں استعمال میں لایا جائے گا۔ ایرانی حکومت کو اس پیشکش پر تحفظات تھے اور اب وہ برازیل اور ترکی کے ساتھ یورینیم کی افزودگی پر رضامند ہو گئی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو پیش کئے جانے والے خط میں سترہ مئی کی ڈیل کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ مغربی حکومتوں کے اس تازہ ڈیل پر اپنے تحفظات ہیں اور ان کے مطابق ایرانی حکومت اس معاہدے میں ان کے خدشات کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ IAEA کے ترجمان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بتایا ہے کہ پیش کیا جانےوالا خط امریکہ، فرانس اور روس کی حکومتوں کو فارورڈ کیا جائے گا، تا کہ وہ اس پر باقاعدہ غوروفکر کے بعد اپنی رائے قائم کر سکیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM