1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی انقلابی گارڈز گیس فیلڈ کے ٹھیکے حاصل کرنے والوں میں شامل

ایران میں چھ فیلڈز سے گیس نکالنے کے معاہدوں پر آج منگل کے روز دستخط کئے گئے ہیں۔ 21 بلین ڈالر کے یہ ٹھیکے مختلف ملکی کمپنیوں کو دیے گئے ہیں جن میں ایرانی انقلابی گارڈز کی ایک کمپنی بھی شامل ہے۔

default

اس سے قبل ایران جنوبی پارس گیس فیلڈز کے دو مختلف فیز برٹش ڈچ کمپنی شیل اور سپین کی کمپنی ریپسول YPF کو دینے کے لئے بات چیت کررہا تھا، تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے نئی پابندیوں کے باعث یہ دونوں غیرملکی کمپنیاں پیچھے ہٹ گئی تھیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی پارس گیس فیلڈز کے فیز 13، 14، 19، 22، 23 اور 24 میں سے گیس نکالنے کے ٹھیکے تین مختلف گروپوں کو دیے گئے ہیں جن میں ' ختم الانبیا' نامی ایرانی انقلابی گارڈز کی تجارتی کمپنیوں کا گروپ بھی شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی نئی پابندیوں کی زد میں ختم الانبیا نامی یہ گروپ بھی آیا ہے۔

گیس فیلڈز کے نئے ٹھیکے حاصل کرنے والے دیگر دو گروپ ایرانی صنعتی ترقیاتی ادارہ (IDRO) اور پیٹرو پارس شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق IDRO سرکاری صنعتی کمپنیوں پر مشتمل گروپ ہے جبکہ پیٹروپارس ایران کی سرکاری تیل کمپنی ہے۔

Iran Präsident Mahmud Ahmadinedschad in Teheran

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اس موقع کو ایرانی تیل کی صنعت کے لئے ایک عظیم دن قرار دیا۔

سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کیے جانے والے خطاب میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا اس معاہدے کے حوالے سےکہنا تھا کہ ایرانی تیل کی صنعت کے لئے یہ ایک بہت عظیم دن ہے۔ انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ملکی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو تین گنا تیز رفتاری سے ترقی کی جانب لے جایا جاسکتا ہے۔

توانائی سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ ان معاہدوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کیا ایرانی کمپنیوں کے پاس وہ مہارت، ذرائع اور افرادی قوت موجود ہے جو اس طرح کے بڑے منصوبے چلانے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

تاہم ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ملکی کمپنیاں اس طرح کے بڑے منصوبے چلانے کی بھرپور مہارت رکھتی ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ دس برس قبل شاید کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ شمالی پارس گیس فیلڈز کو ملکی کمپنیاں چلا سکتی ہیں مگر آج یہ کمپنیاں کامیابی سے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

ختم الانبیا نامی کمپنی ایرانی انقلابی گارڈز کا صنعتی بازو ہے، جو کہ 80 کی دھائی میں ایران اور عراق کے مابین ہونے والی جنگ کے بعد تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ملک میں تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر کی جاسکے۔ تاہم رفتہ رفتہ یہ مختلف کمپنیوں کا ایک گروپ بن گیا جس میں انجیئرنگ، توانائی، کان کنی اور دفاعی حوالے سے کمپنیاں شامل ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان/ خبررساں ادارے

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM