1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایرانی اصلاح پسند سیاستدانوں کے خلاف عدالتی فیصلہ

ماہ جون کے ایرانی متنازعہ صدارتی الیکشن کے بعد مظاہروں میں ہزاروں گرفتار افراد میں سے بیشتر رہاہو اوربقیہ افراد کے خلاف مقدمات کا عمل شروع ہے۔ گزشتہ دنوں تین افراد کو موت کی سزا اور اب دو سیاستدانوں کو سزاسنائی گئی ہے۔

default

ایرانی صدر کے خلاف تہان کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ مظاہرے میں اٹھایا گیا پوسٹر: فائل فوٹو

ایرانی عدالت نے جون کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد تہران میں شروع ہونے والے مظاہروں میں گرفتار دو اصلاح پسند سیاستدانوں کو کم از کم پانچ سال قید سزا کا حکم سنایا ہے۔ عدالت کے مطابق دونوں سیاستدان مظاہروں کے دوران شرکاء کو مشتعل اور قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

سزا پانے والوں میں سے ایک ہدایت آغائی ہیں جن کے خلاف عدالت میں سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہدات آغائی شہری امن کو خراب کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف قدم اٹھانے کے باقاعدہ مرتکب پائے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے بعد مظاہرین کو مشتعل کرنے کے علاوہ حکومت مخالف پراپیگنڈہ بھی کرتے رہے ہیں۔

Wahlen in Iran Parlamentspräsident Mehdi Karrubi

مجون کے الیکشن کے ایک ہارنے والے صدارتی امیدوار مہدی کروبی: فائل فوٹو

ایران کے سرکاری خبر رساد ادارے IRNA کے مطابق ہدایت آغائی کو ابھی کچھ اور مقدمات کا بھی سامنا ہے جن میں رشوت ستانی اور اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کی تحقیر شامل ہے۔ ہدایت آغائی کے وکیل علی رضا جعفریان اپنے مؤکل کی سزا کے خلاف بڑی عدالت میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ہدایت آغائی اُس اصلاح پسند سیاسی جماعت کے اعلیٓ عہدے دار ہیں جو سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نظریات اور خیالات کے انتہائی قریب تصور کی جاتی ہے۔ اِس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی سابق صدر کے قریب افراد میں سے ہیں۔ جون کے صدارتی الیکشن میں وہ میر حسین موسوی کی کھلےعام حمایت کر رہے تھے۔

ایک دوسرے مقدمے میں میر حسین موسوی کے ایک اور سرگرم حامی شہاب طباطبائی کو بھی پانچ سال قید سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔ اُن کی قید سزا کی تصدیق اُن کے وکیل فرزام اردلان نے کردی ہے۔ دونوں افراد کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ماتحت عدالت کے حکم کے خلاف اعلیٰ ایرانی عدالت میں نظرثانی کی اپیل کر سکتے ہیں۔ ماتحت عدالت سے سزا پانے والے افراد ایرانی دستور کے مطابق دو اپیلوں کا حق رکھتے ہیں۔

Proteste im Iran

تہران مظاہروں کی ایک تصویر : فائل فوٹو

جون کے متنازعہ صدارتی الیکشن کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں تقریباً چار ہزار افراد گرفتار کئے گئے تھے۔ بیشتر کو رہائی حاصل ہو چکی ہے۔ البتہ ایک سو چالیس افراد کو مفدمات کا سامنا ہے۔ اِن میں کئی اہم اصلاح پسند سیاستدان بھی ہیں جو اعلیٰ سیاستدانوں کے فریبی رفقا خیال کئے جاتے ہیں۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے مقابلے پر کھڑے امیدوار میر حسین موسوی اور مہدی کروبی بارہ جون کے صدارتی الیکشن کو متنازعہ قرار دیتے ہیں۔ میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کے درمیان گزشتہ دنوں ایک ملاقات بھی ہوئی اور اُس کے بعد دونوں لیڈروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اُن کو ایرانی ٹیلی ویژن پر اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تا کہ وہ حقائق عوام تک پہنچا سکیں۔ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کا کہنا ہے کہ جون کے الیکشن کے بعد مظاہرین کی آأواز وقتیف طور پر تو دبائی جا سکتی ہے لیکن یہ مسلسل موجود رہے گی اور حکومت کو مظاہروں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

دریں اثنا ایرانی عدالت کی جانب سے متنازعہ صدارتی الیکشن کے بعد مظاہروں کے دوران گرفتار تین اشخاص کو موت کی سزا سنا ئی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ نے ایرانی حکام سے اپیل کر رکھی ہے کہ اِن افراد کی سزاؤں پر نظرثانی کی جائے۔

ملتے جلتے مندرجات