1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی ارب پتی ملزم کے لیے کرپشن کیس میں سزائے موت کی توثیق

ایرانی سپریم کورٹ نے ایک مقامی ارب پتی بزنس مین کو کرپشن کے الزام میں سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ بابک زنجانی نامی اس کاروباری شخصیت کے لیے سزائے موت برقرار رکھنے کا اعلان ملکی عدلیہ نے ہفتہ تین دسمر کو کیا۔

دبئی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے زنجانی کے لیے ایک ذیلی عدالت کا سزائے موت کا حکم برقرار تو رکھا ہے لیکن انہیں سنائی گئی اس سزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ زنجانی کو سزائے موت دینے سے ان تمام اعلیٰ ایرانی حکام کی شناخت ہمیشہ کے لیے چھپا دی جائے گی، جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں اپنے اختیارات کا مجرمانہ استعمال کرتے ہوئے اس بزنس مین کی کرپشن میں اس کی مدد کی تھی۔

Iran Hassan Rouhani (picture alliance/AP Photo/Iranian Presidency Office)

بابک زنجانی کے لیے سزائے موت کے حکم کی توثیق پر خود ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی شدید تنقید کی ہے

خود بابک زنجانی کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے دور میں اربوں ڈالر کے تیل کی فروخت کے معاہدوں کا اہتمام کیا تھا اور اس عمل میں کئی ایسی کاروباری کمپنیوں کا وہ نیٹ ورک استعمال کیا گیا تھا، جو ملائیشیا اور ترکی سے لے کر متحدہ عرب امارات تک پھیلا ہوا تھا۔

زنجانی کو سزائے موت کا حکم اس سال مارچ میں سنایا گیا تھا اور ایرانی دفتر استغاثہ کا الزام ہے کہ ابھی تک اس کے ذمے کم از کم بھی 2.7 ارب ڈالر سے زائد کی وہ رقوم باقی ہیں، جو اسے تہران میں ملکی وزارت تیل کے لیے ایرانی حکومت کو ادا کرنا ہیں۔

ارب پتی بزنس مین بابک زنجابی کو سنائی گئی سزائے موت کے شدید ناقدین میں موجودہ ملکی صدر حسن روحانی بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ زنجانی کو موت کی سزا دینے سے ان تمام سرکاری اہلکاروں کی شناخت کا افشاء اور ان سے سرکاری رقوم کی وصولی ناممکن ہو جائیں گے، جنہوں نے بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زنجانی کے ساتھ مل کر ایرانی تیل بیرونی منڈیوں میں فروخت کیا تھا۔

بابک زنجانی نے ایک مرتبہ ایک ایرانی جریدے کو بتایا تھا کہ وہ قریب 10 ارب ڈالر کا مالک ہے اور تقریباﹰ اتنی ہی مالیت کے قرضے اس کے ذمے واجب الادا بھی ہیں۔

Babak Zanjani, Abolghasem Salavati (Mizan)

زنجانی کو دسمبر 2013ء میں گرفتار کیا گیا تھا، اس تصویر میں وہ (دھاری دار قمیض پہنے) تہران کی ایک عدالت میں ہونے والی سماعت میں شریک ہیں

ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ ’میزان‘ نے عدلیہ کے نائب سربراہ غلام رضا انصاری کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ تین دسمبر کو بتایا کہ ملکی سپریم کورٹ نے بابک زنجانی کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے  جب کہ اسی مقدمے میں دو دیگر شریک ملزمان کو سنائی گئی موت کی سزائیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

زنجانی کو دسمبر 2013ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے وقت ایرانی عدلیہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا، ’’زنجانی نے چند اداروں سے رقوم لیں۔ ان کے بعد اسے تیل اور دیگر مصنوعات مہیا کی گئیں۔ اس دوران ملزم زنجانی نے ایرانی ریاست کو وہ فنڈز واپس نہیں کیے، جو اسے عرصہ پہلے واپس کر دینا چاہیے تھے۔‘‘

DW.COM