1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران:مغربی تہران کی مسجد کا سانحہ، دس ہلاکتوں کی سرکاری تصدیق

ایران میں پرتشّدد مظاہروں کے خلاف روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ائی کےانتباہ کے باوجود ہفتے کو تہران میں کشیدگی رہی۔ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف دارالحکومت میں مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

default

Iran Wahlen Khamenei Rede

مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ائی کے انتباہ کو نظرانداز کردیا

ایران میں ہفتے کو بھی صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ائی کے اس انتباہ کو نظرانداز کر دیا جس میں انہوں نے مظاہروں کی قیادت کرنے والوں کو سخت نتائج سے خبردار کیا تھا۔

دارالحکومت تہران میں مختلف مقامات پر میرحسین موسوی کے حامی اکٹھے ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس استعمال کی اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ ایران کے سرکاری انگریزی پریس ٹی وی نے ان جھڑپوں کی تصدیق کی۔ مغربی تہران میں ایک مسجد پر دھاوہ بولنے والے مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں کم از کم دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق سرکاری ٹیلی ویژن نے کی۔ ابتداء میں سرکاری ٹی وی نے یہ تعداد تیرہ بیان کی تھی۔ بعد میں سرکاری ٹیلی ویژن نے اِس مناسبت سے تردیدی بیان بھی جاری کیا۔ افس واقعہ میں دیگر ایک سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا بھی تصدیقی بیان جاری کیا گیا ہے۔

اُدھر موسوی اور احمدی نژاد کے حامیوں کے درمیان بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اِس سے پہلے بھی ایک دِن قبل جھڑپوں کے دوران ایک شخص کی ہلاکت اور مظاہرین کی جانب سے ایک سرکاری عمارت کو نذرآتش کئے جانے کی اطلاع بھی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران کی صورت حال کے بارے میں امریکی صدر باراک اوباما نے ایرانی حکومت پر زور دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کیا جائے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور یہ کہ ایرانی شہریوں کو ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب میرحسین موسوی نے انتخابی نتائج کی منسوخی کے لئے کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ موسوی نے مجلس شوریٰ کے نام ایک خط میں کہا کہ ملکی آئین اور قانون کی بنیاد پر وہ سچائی جاننے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ہفتےکو اپنی ویب سائٹ پر ایک اور بیان میں موسوی نے احتجاجی تحریک کو ’’خوبصورت سبز لہر‘‘ کا نام دیا۔ ناکام صدارتی امیدوار میر حسین موسوی نے مزید کہا کہ وہ اسلامی نظام اور اس کے قوانین کے خلاف نہیں بلکہ جھوٹ اور انحراف کی پالیسی کے مخالف ہیں۔ موسوی کا کہنا تھا کہ ملک میں

Iran Wahl Mussawi 11 Juni Flash-Galerie

انتخابی نتائج کی منسوخی کے لئے کوششیں جاری رکھوں گا، موسوی

پرامن اجتماعات کی اجازت ہونی چاہئے اور اگر عوام کو اس کی اجازت نہ دی گئی تو وہ زیادہ خطرناک طریقہء کار اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق موسوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ ملک گیر ہڑتال کی کال دیں گے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ موسوی شہادت کے لئے بھی تیار ہیں۔

اُدھر مجلس شوریٰ نے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والے امیدواروں کو مختلف حلقوں سے دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی پیش کش کی ہے۔

ہفتے کو مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس ہوا جس میں انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی شکایات کا جائزہ لیا گیا تاہم میرحسین موسوی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ ایک اور ناکام امیدوار مہدی کروبی بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

DW.COM