1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ایدھی کی کامیابی، ایک نہیں دو خواتین کی مرہون منت

عبدالستار ایدھی کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ان کی شخصیت، سماجی شعبوں میں خدمات اور کامیابیوں کے پیچھے خواتین کا کردار نہایت نمایاں نظر آتا ہے۔

سماجی خدمات کے حوالے سے گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ پانے والے عبدالستار ایدھی کی شخصیت ایک افسانوی حیثیت کی حامل ہے۔ انہوں نے تن تنہا عوامی خدمت کا بیڑا اٹھایا اور عوام ہی کی شرکت سے دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری ایمبولینس سروس بنا ڈالی۔ لیکن اگر عبدالستار ایدھی کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ان کی شخصیت، سماجی شعبوں میں خدمات اور کامیابیوں کے پیچھے خواتین کا کردار نہایت نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ ہی وہ شخصیات ہیں جن کی تربیت اور ساتھ نے عبدالستار ایدھی کو پاکستان میں انسانیت کا مسیحا بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ یہ شخصیات ہیں، ان کی والدہ غربہ ایدھی اور اہلیہ بلقیس ایدھی۔

ایدھی پر والدہ کی سماجی خدمات کا رنگ

جونا گڑھ کے قصبے ’بانٹوا‘ میں بیاہ کر آنے والی ان کی والدہ نے عبدالستار ایدھی کو بہت کم عمری میں ہی سماجی خدمت کی جانب راغب کیا۔ وہ گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے خود بھی آس پاس رہنے والے حاجت مندوں کے لیے حسب توفیق مدد کرتی رہا کرتی تھیں۔ وہ ایدھی کو اردگرد کی غریب بستیوں میں ناداروں اور حاجت مندوں کی مشکلات معلوم کرنے کے لیے بھیجتیں اور پھر ان کے لیے کھانا اور ادویات پہنچانے کو کہتیں۔ ایدھی کہتے تھے کہ یہ ان کی والدہ کی جانب سے کی جانے والی اس تربیت کا ہی اثر تھا جس کے تحت وہ بے سہارا لوگوں کی ضرورت کا خاموشی سے جائزہ لیتے تھے اور اسی طرح خاموشی سے ان کی مدد بھی کرتے رہے۔

ایدھی کے بقول، اُن کی ماں کا پہلا درس یہ تھا کہ اسکول جاتے وقت جیب خرچ کے طور پر ملنے والے دو پیسوں میں سے ایک پیسے پر اُن کا یعنی ’ایدھی‘ کا نہیں بلکہ کسی دوسرے حاجت مند کا حق ہے۔ وہ کہا کرتی تھیں، ’’دیکھو بیٹا غریبوں کو ستانا اچھی بات نہیں۔ ان کی ہر ممکن مدد کیا کرو۔ اوپر والے کو راضی کرنے کا ایک یہی طریقہ ہے۔‘‘ ایک انٹرویو کے دوران ایدھی نے مزید بتایا کہ پیسے دینے کے اگلے دن اماں ضرور پوچھا کرتی تھیں کہ انہوں نے کیسے اور کس پر یہ ایک پیسہ خرچ کیا۔ وہ اس معاملے میں نہایت سخت تھیں اور اگر جواب ان کو تسلی بخش نہیں لگتا تھا تو وہ بہت ناراض ہوتیں اور نہایت سختی سے پیش آتیں۔

عبدالستار ایدھی کی عمر محض 11 سال تھی جب ان کی والدہ کو فالج ہوگیا۔ ایدھی نے اپنی والد کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اوران کے علاج معالجے سمیت ان کی تمام ضروریات کو کم عمری کے باوجود پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ والدہ کی گرتی صحت کے دوران جب ایدھی انہیں ہسپتال لے جانے کے مشکل مرحلے سے گزرے تو انہیں معلوم ہوا کہ پورے کراچی میں صرف ایک ریڈ کراس کی ایمبولینس ہے۔ ایدھی کے مطابق وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ دنیا میں ایسی لاکھوں کروڑوں مائیں ہوں گی جو ان کی والدہ کی طرح بیماری میں مبتلا ہو ں گی اور ان میں سے کتنوں کی تیمارداری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ اسی سوچ نے انہیں بے بس اور بے سہارا لوگوں کے لیے ویلفیئر سینٹرز اور ہاسپٹلز قائم کرنے اور وہاں بے سہارا اور غریب لوگوں کو رکھنے اور ان کے علاج کے لیے دن رات کام کرنے پر آمادہ کیا۔

ہر لمحہ ہر قدم اہلیہ کا ساتھ

ایدھی اپنی کامیابی میں ایک بڑا حصے دار اپنی بیوی بلقیس ایدھی کو بھی قرار دیتے تھے۔ بلقیس ایدھی نے محض 16 سال کی عمر میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور نرسنگ کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔

ایدھی بتاتے تھے کہ ان کی پہلے شادی ان کی ہم عمر خاتون سے طے ہوئی تھی۔ وہ بھی ان کے ساتھ کام کرتی تھیں لیکن عین وقت پر انہوں نے ایدھی کے مستقبل اور تمام پیسہ دوسروں پر خرچ کرنے کی عادت کے باعث شادی سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کئی جگہ رشتے کے لیے بات کی گئی تاہم ہر جگہ سے یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ ان کے پاس تو رہنے کا علیحدہ سے کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ اور پھر ایک دن انہوں نے پندرہ سالہ بلقیس کو دیکھا جو ان کی ڈسپنسری میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ایدھی کہتے تھے کہ بلقیس کی خدمت دیکھ کر وہ سوچا کرتے تھے کہ یہ ہی وہ خاتون ہو سکتی ہیں جو لوگوں کی مدد کے لیے ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلے۔ اس خیال کو لے کر انہوں نے بلقیس بانو کے لیے شادی کا پیغام بھیجھا جسے قبول کر لیا گیا اور یوں بلقیس بانو 16 برس کی عمر میں بلقیس ایدھی بن گئیں۔

ایدھی صاحب سے شادی کے بعد بلقیس ایدھی نے نہ صرف ڈسپینسری کے لیے خدمات سرانجام دیں بلکہ ہزاروں لاوارث اور ان چاہے بچوں کی زندگی بچانے کے لیے جگہ جگہ جھولے لگانے کی مہم، بچوں کو گود لینے، ان کی دیکھ بھال کرنے اور غریب لڑکیوں کی شادی کروانے اور میٹرنیٹی ہوم جیسے کئی منصوبوں کا آغاز ایدھی کے ساتھ مل کر کیا اور انہیں مکمل طور پر سنبھالا۔

بلقیس ایدھی کے مطابق ابتدا میں تو انہیں ایدھی صاحب سے گھر کو وقت نا دینے کا گلہ تھا تاہم جلد ہی انہوں نے ایدھی صاحب کی مصروفیات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا اور ان کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے میں مصروف ہو گئیں۔ ایدھی کہتے تھے کہ انہیں ایک اچھی بیوی ملی لیکن وہ اپنے مقصد کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ وہ کہتے تھے،’’میں جانتا تھا کہ ایک غمگسار عورت نے جن مشکلات کی زندگی کو اپنے سینے سے لگائے رکھا وہ بے حد اور بے حساب تھے جنہیں اس نے کبھی بیوی، کبھی ماں کبھی ایدھی فاؤنڈیشن کی درد آشنا کے روپ میں جھیلا لیکن کام کی مصروفیت کے باعث شاید میں اس کے دکھ بانٹنے کے لیے مناسب وقت نہ دے سکا۔‘‘

عبدالستار ایدھی کے مطابق ایدھی فاونڈیشن خواتین اور بچوں کے حوالے سے جتنا بھی کام کر رہی ہے، اس سب کو بلقیس ایدھی اپنی نگرانی میں کرواتی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ بلقیس ہمیشہ سے سماجی مشن اور نصب العین کے بارے میں سنجیدہ تھیں۔ وہ سب جانتی تھیں لیکن اس نے اپنی زندہ دلی کے باعث ساری گرانباریوں کو خوش گوار بنا دیا تھا۔

اگر کہا جائے کہ عبدالستار ایدھی کی کامیابیوں کے پیچھے ایک نہیں بلکہ دو خواتین کی انتھک کاوشوں، محنتوں، قربانیوں اور سمجھوتوں کا ہاتھ ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن کو سماجی خدمت کے راستے پر رواں دواں رکھنے کے لیے عبدالستار ایدھی موجود نہیں لیکن ان کی ہمدم اہلیہ بلقیس ایدھی ان کے مشن کو جاری رکھنے اور بخوبی انجام دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔