1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ایدھی: ناکامی کی شکار ریاست اور ایک مسیحا‘

جہاں پاکستان کی ریاست اور حکومتیں عوام کی جانب اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئیں، وہاں فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی نے چھ دہائیوں تک لوگوں کی خدمت کر کے اس خلا کو پُر کیا۔ ڈی ڈبلیو کی کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں شہری اور عسکری بیوروکریسی انتہائی وسیع ہے۔ ملک میں بے شمار سرکاری شعبے ہیں، وزارتیں ہیں اور لاتعداد وزیر بھی ہیں۔ پاکستان کے سن انیس سو سینتالیس میں انگریز حکم رانوں سے آزادی کے باوجود اب تک ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے۔

'پاکستان کے مدر ٹیریسا‘ کہلائے جانے والے عبدالستار ایدھی نہ سیاست دان تھے اور نہ ہی امیر بزنس مین، مگر عوامی فلاح و بہبود کے لیے ان کی لگن اور ان تھک محنت نے پاکستان کے غریب افراد کو وہ کچھ دیا جو ریاست نہ دے سکی۔

Mustafa Kishwar Kommentarbild App

ڈی ڈبلیو سے وابستہ کشور مصطفےٰ

جب ایدھی کو یہ اندازہ ہوا کہ ریاست اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہی تو انہوں نے اپنے طور پر عوام کی فلاح کا بیڑا اٹھا لیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کو قائم کیا۔ ابتدا میں یہ صرف لوگوں کو عارضی مدد فراہم کرنے والا ادارہ تھا، تاہم جب پاکستان میں انیس سو اسی اور انیسی سو نوے کی دہائیوں میں سکیورٹی کی حالت ابتر ہوتی گئی تو ایدھی نے اپنے مشن کو وسیع کرتے ہوئے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کی بھی مدد کرنا شروع کی۔

ایدھی ایک بہت مشکل کام حکومت کی کسی بھی مدد کے بغیر کر رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ کام اس قدر عاجزی اور سنجیدگی کے ساتھ کیا کہ پاکستان کے عوام نے اس کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی سادگی سے گزاری اور اپنی زندگی میں ہی ان کو ایک ’درویش‘ کا درجہ حاصل ہو گیا۔

آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس جنوبی ایشیا میں ایمبولینسوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ وہ ’عوامی باورچی خانے‘ بھی چلاتی ہے جہاں سے ہر روز ہزاروں بھوکے افراد کو کھانا ملتا ہے۔ ایدھی کا فلاحی ادارہ ’دارالاطفال‘ بھی چلاتا ہے، جہاں وہ بچے لائے جاتے ہیں جن کا کوئی کفیل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے درالامان بھی چلاتی ہے۔

عبدالستار ایدھی کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کا فلسفہء حیات ان لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا جو انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی وراثت ثابت کرتی ہے کہ انسانیت کسی بھی قومی، لسانی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں غریب افراد ایدھی صاحب کے بنائے ان اداروں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

اس عظیم فلاحی کارکن کو نو جولائی کو پاکستانی ریاست کی جانب سے پورے اعزازات کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ فوجی اور سویلین قیادت نے ایدھی کی سماج کے لیے خدمات پر انہیں سیلوٹ بھی پیش کیا۔ تاہم ایدھی کو کسی ریاستی اعزاز کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی جدوجہد اس بات کو ظاہر کرتی تھی کہ ریاستی رہنما اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہے تھے۔ جو محبت اور عزت انہیں پاکستان کے عوام سے ملی وہی ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز تھا۔

DW.COM