1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایتھوپین ایتھلیٹ میسیرت دیفار کی نظریں برلن پر

ایتھوپیا کی 25 سالہ کھلاڑی میسیرت دیفار پُر عزم ہیں کہ وہ اگست میں جرمن دارالحکومت برلن میں خواتین کی پانچ ہزار اور دَس ہزار میٹر کی دوڑ میں نئے عالمی ریکارڈ قائم کریں گی۔

default

پندرہ تا تیئیس اگست برلن میں منعقد ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ

دیفار 2004ء کے مقابلوں میں پانچ ہزار میٹر دوڑ کی اولمپک چیمپئن ہیں۔ وہ آج کل پانچ ہزار میٹر دوڑ میں عالمی چیمپئن بھی ہیں۔ جولائی کے اوائل میں وہ دَس ہزار میٹر دوڑ تیس منٹ سے کم وقت میں مکمل کرنے والی تاریخ کی پانچویں خاتون کھلاڑی بن گئیں۔ تب وہ برطانوی شہر برمنگھم میں برٹش لائٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپس میں مہمان کھلاڑی کے طور پر شریک ہوئی تھیں اور اُنہوں نے یہ فاصلہ اُنتیس منٹ اور اُنسٹھ اعشاریہ دو صفر سیکنڈز میں طے کیا تھا۔

اِس کامیابی کے ساتھ ہی دیفار برلن میں پندرہ تا تیئیس اگست برلن میں منعقد ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ کے لئے بھی کوالیفائی کر گئی تھیں۔ تاہم اب دیفار کہتی ہیں کہ وہ اِس سے بھی کم وقت میں یہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا:’’خدا نے چاہا تو میرا اپنی بہترین کارکردگی سامنے لانے کا پروگرام ہے اور بہت ممکن ہے کہ برلن میں مَیں پانچ اور دَس ہزار میٹر کی دوڑ میں نئے عالمی ریکارڈ قائم کروں۔‘‘

دیفار کی سخت ترین حریف اُس کی اپنی ہی ہم وطن کھلاڑی ترونیش دیبابا ہیں، جو پانچ اور دَس ہزار میٹر دوڑ کی اولمپک چیمپئن ہونے کے ساتھ ساتھ قدرے مختصر فاصلے کی دوڑ میں عالمی ریکارڈ کی بھی حامل ہیں۔

ایتھوپیا کے قومی کوچ وولڈے میسکل کوستیر نے روئٹرز کو بتایا کہ اِن دونوں کھلاڑیوں کا مقابلہ برلن مقابلوں میں یادگار حیثیت کا حامل ثابت ہو گا۔ کوستیر نے کہا:’’ جو زیادہ بہتر کھلاڑی ہو گی، وہ جیت جائے گی۔ ہمارے لئے دونوں ہی قیمتی اثاثہ ہیں۔‘‘

دیبابا نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے زخمی ہونے کے بعد اب وہ بالکل تندرست ہے اور فارم میں ہے۔ دیبابا نے کہا:’’ مَیں اپنی بہترین فارم میں ہوں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی توقع کر رہی ہوں لیکن کینیا یا پھر دیگر خطوں کے چوٹی کے کھلاڑیوں کے باعث مقابلہ مشکل ضرور رہے گا۔‘‘