1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایتھوپیا کے فوجی صومالیہ میں داخل

افریقی ملک ایتھوپیا کے سینکڑوں فوجی صومالیہ کے مغرب میں واقع وسطی صوبے ہیران کے مرکزی شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔ مغربی صومالیہ کا شہر بلدوین انتہاپسند تنظیم الشباب کا ایک گڑھ خیال کیا جاتا ہے۔

صومالیہ میں متحرک انتہاپسند مسلح تنظیم الشباب کو اب صومالیہ کی قومی فوج کے علاوہ کینیا، افریقی یونین اور ایتھوپیا کی فوجوں کا سامنا ہے۔ تین مختلف محاذوں پر الشباب کتنی دیر مختلف افواج کو روک سکتی ہے یہ ایک سوال ہے، جس کا جواب اگلے چند ہفتوں میں سامنے آ جائے گا۔ بلدوین کے شہر میں ایتھوپیا کے فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق عینی شاہدین نے بھی کی ہے۔ صومالی فوج نے اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کا بتایا ہے۔ شہر کی آبادی نے نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

صومالیہ کے وسطی صوبے ہیران کے مرکزی شہر بلدوین کو الشباب کے شدت پسندوں کا ایک ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے۔ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہ یہ صومالیہ کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ بلدوین کا شہر ایتھوپیا کی سرحد سے بیس کلو میٹر کی مسافت پر آباد ہے۔ بلدوین میں ایتھوپیا کی فوجوں کے ساتھ صومالیہ کی نیشنل آرمی بھی داخل ہوئی ہے۔ اس کی تصدیق صومالی فوج کے کیپٹن ہاشی نور نے کی ہے۔ الشباب کے گوریلے اس شہر سے پسپائی اختیار کر گئے ہیں۔ وہ ہیران صوبے کے ایک اور قصبے بولو بردے کی جانب روانہ ہیں۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد صومالی فوج نے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا ہے۔

Militär in Kenia Afrika

کینیا کے فوجی وسط اکتوبر میں صومالیہ میں داخل ہوئے تھے

اس دوران الشباب کی جانب سے جاری ایک ابتدائی پیغام میں کہا گیا تھا کہ بلدوین کے قلب میں لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انتہاپسند نظریات کی حامل تنظیم کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بلدوین کے بیشتر رہائشی شہر کے دفاع کے لیے ان کے ساتھ مسلح جدوجہد میں شامل ہو گئے ہیں۔ الشباب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی سے ایتھوپیا کے درجنوں فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ بعد میں جاری ہونے والے تنظیم کے بیان میں پسپائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ واپسی بلدوین کے محاصرے کے لیے اختیار کی گئی ہے۔

صومالیہ کے وزیر اعظم عبد ویلی محمد علی نے بلدوین شہر پر الشباب کا کنٹرول ختم کرنے کے بعد صومالی فوج کے قبضے کی مناسبت سے بیان جاری کیا ہے۔ محمد علی کے مطابق صومالی فوج نے وسطی علاقے کے اسٹریٹیجیک نوعیت کے شہر پر اپنی فوج کے کنٹرول کا ضرور بتایا لیکن انہوں نے ایتھوپیا کی فوج کی معاونت کو نظر انداز کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بین الاقوامی کمیونٹی اور ایتھوپیا سمیت دیگر ہمسایہ ملکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان کے ملک کے عوام اور فوج کا ساتھ دیں تا کہ ایک دہشت پسند گروپ کے قبضے سے صومالیہ کو آزاد کروایا جا سکے۔

ہیران صوبے کا شہر بلدوین تیسرا شہر ہے، جہاں صومالی فوج داخل ہونے میں کامیاب ہوئی ہے۔ الشباب اس وقت صومالیہ میں انتہائی مضبوط مسلح گروپ خیال کیا جاتا ہے۔ وسط اکتوبر میں اسے کینیا کی فوج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دارالحکومت موغادیشو میں سے الشباب کے مسلح جنگجوؤں کو افریقی یونین کی فوج نے حال ہی میں نکال باہر کیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس