1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایتھوپیا میں پھر قحط کا خوف

مشرقی افریقی ممالک کو ایک بار پھر شدید ترین نوعیت کے قحط کے خطرے کا سامنا ہے۔ انہی ممالک میں سے ایک، ایتھوپیا نے عالمی برادری سے فوری طورپر، اپنی ساٹھ لاکھ سے زائد کی آبادی کے لئے خوراک کی ہنگامی امدادکی اپیل کردی ہے۔

default

یاد رہے کہ اس ملک میں سال انیس سو چوراسی میں دس لاکھ سے زائد انسان بھوک اور قحط کے باعث مرگئے تھے۔ حالیہ برسوں میں ایک بار پھر خشک سالی اور غربت کے باعث صورتحال تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

انیس سو چوراسی کے المناک خوارکی بحران اور قحط کے بعد، ایتھوپیا کی عوام ایک بار پھر پرییشانیوں میں گھر گئی ہے۔ ملک کی زراعت اور دیہی ترقی کے وزیر مٹی کو کاسا نے جمعرات کو عالمی برادری سے ہنگامی طورپر خوراک کی فراہمی کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اسَی لاکھ میں سے ساٹھ لاکھ سے زائد کی آبادی کو قحط کا سامنا ہے۔ وزیر کے بقول اس تعداد میں سے اسَی ہزار بچے ہیں جن کی عمریں پانچ سال سے بھی کم ہے۔ مٹیکو نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ خوراک کی کمی کا شکار ان بچوں اور خواتین کے لئے فوری طورپر نوے لاکھ جبکہ مجموعی طورپر ایک سو اکیس ملین ڈالر کی امداد درکار ہے۔

Konvoi des World Food Programme in Somalia

World Food Program نے خدشہ ظاہر کیا ہےکے ایتھوپیا کے لئے امدادی خوراک کی فراہمی میں اسے پچاسی ملین ڈالر کی رقم کی کمی کا سامنا ہے

ایتھوپیا کے وزیر نے امدادی تنظیموں کے سامنے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کی کمی کے باعث ملک کی پچھتر فیصد آبادی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دوسری رپورٹ میں عالمی ادارہ خوراک World Food Program نے خدشہ ظاہر کیا ہےکے ایتھوپیا کے لئے امدادی خوراک کی فراہمی میں اسے پچاسی ملین ڈالر کی رقم کی کمی کا سامنا ہے۔

دیگرامدادی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث انہیں ملنے والی امداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر افریقہ میں ممکنہ قحط کا سامنا کرنے والوں کو ہوسکتا ہے۔

Dirie Waris mit Unicef Logo im Hintergrund

خوراک کی کمی کا شکار بچوں اور خواتین کے لئے فوری طورپر نوے لاکھ ڈالر کی امداد درکار ہے

اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال UNICEF کے ڈیوڈ بل کے بقول ''ہمیں صورتحال سے متعلق شدید تشویش لاحق ہے، مشرقی افریقہ میں پندرہ ملین بچوں کوبھوک اور قحط کا سامنا ہے، ان میں ایتھوپیا، کینیا، یوگنڈا، صومالیا، ڈیجی بوٹی، اور ایریٹریا شامل ہیں۔ ہمارے اندازے کے حساب سے تو اس سال لاکھوں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے، ہم ان کی مدد کرسکتے ہیں لیکن ہمیں ملنے والی امداد میں پینتیس فیصد کمی آئی ہے ''

رضاکار تنظیموں اور امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی افریقہ کے بیشتر ممالک گزشتہ پانچ سال کی قحط سالی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ دوسری جانب اوکس فام نامی رضاکار تنظیم نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ امداد کے طریقہ کار میں تبدیلی لائیں تاکہ دیرپا اور موثر اندازسے متاثرہ آبادی کی فلاح ہوسکے۔ ادارے نے تجویز کیا کہ علاقائی سطح پر شعورو آگہی سے متعلق منصوبے شروع کرکے لوگوں کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے اوربہتر فصل اگانے کی تراکیب سکھائیں جائیں تاکہ یہ لوگ ایسی صورتحال سے خود کو بچاسکیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عاطف بلوچ