1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایتھوپیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ہنگامی حالت نافذ

ایتھوپیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد چھ ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ ایتھوپیا کے صدر ہیل مریم دیسالین نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں امن و امان بحال کرنا ہے۔

Äthiopien Trauer für gestorbenen Demonstranten (picture-alliance/AP Photo/K. Prinsloo)

ایتھوپیا کے فوجی دارالحکومت ادیس ابابا کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

مشرقی افریقی ملک ایتھوپیا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔ زمینیں ہتھیانے کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے ہونے والے اس احتجاج کے دوران متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کے باعث اُن کارخانوں اور پھولوں کے فارمز کے معمولات بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بیرونی دنیا میں موجود اداروں اور افراد کی ملکیت ہیں۔

گزشتہ ہفتے مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی تھی، جس کی وجہ سے ان مظاہروں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا تھا۔

صدر ہیل مریم دیسالین نے سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا:’’ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے کیونکہ صورتِ حال ملکی عوام کے لیے خطرہ بننے لگی ہے۔ ہنگامی حالت کا نفاذ بہت اہم ہے۔ مختصر مدت کے اندر اندر امن و استحکام کی بحالی کے لیے یہ اقدام ضروری ہو گیا ہے۔‘‘

ساتھ ہی صدر صدر ہیل مریم دیسالین نے یہ بھی کہا کہ اُن کے حکمران اتحاد ایتھوپین پیپلز ریوولیوشنری ڈیموکریٹک فرنٹ (EPRDF) کی مخلوط حکومت اصلاحات عمل میں لانے پر بھی غور کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایمرجنسی آٹھ اکتوبر سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔

ایتھوپیا میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران نظر آنے والی پُر تشدد کارروائیوں نے ایک ایسے ملک کی معاشی کامیابیوں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، جو اپنے ہاں صنعتی شعبے میں ہونے والی بے پناہ کوششوں کے باعث افریقہ کی سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہونے لگا تھا۔

Äthiopien Protesten der Oromo in Bishoftu (REUTERS/File Photo/T. Negeri)

دو اکتوبر 2016ء: ایتھوپیا میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا ایک منظر

دوسری جانب اس ملک کو بین الاقوامی سطح پر اور ملکی سطح پر بھی اپنی اُن ترقیاتی پالیسیوں کے باعث تنقید کا بھی سامنا تھا، جن کے پیچھے آمرانہ سوچ کارفرما تھی۔

گزشتہ اتوار کو ایتھوپیا کے اورومیا نامی علاقے میں ایک مذہبی اجتماع  کے دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس استعمال کیے جانے اور حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کیے جانے کے بعد بھگدڑ مچ گئی تھی۔ اس دوران کم از کم پچپن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے علمبردار گروپوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ اتوار کو ہلاک ہونے والے کم از کم پچپن افراد اُن چار سو پچاس سے زیادہ ہلاکتوں کے علاوہ ہیں، جو 2015ء  کے بعد سے اب تک بدستور جاری بد امنی کے دوران ہو چکی ہیں۔

گزشتہ منگل کو دارالحکومت ادیس ابابا کے قریب ایک امریکی محققہ اپنی کار پر پتھراؤ کے باعث ہلاک ہو گئی تھی۔