1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ایتھوپیا اور ایتھلیٹ

پچاس فیصد سے زائد بے روز گاری، ایڈز کے مریضیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، کرپشن اور پڑوسی ملک اریٹیریا سے سرحدی تنازعے کے باوجود کھیل کی دنیا میں افریقی ملک ایتھوپیا کا ایک اپنا مقام ہے۔


دنیا کا کوئی بھی ملک ، اولمپک اوردیگر عالمی مقابلوں کی میراتھن ریس میں اتنا کامیباب نہیں رہاجتنا کہ ایتھوپیا۔ ایتھوپیا کے باشندے اپنے ایتھلیٹس پر فخر کرتے ہیں اورخاص طور پر میراتھن ریس کے کھلاڑی کچھ زیادہ ہی توجہ کا مرکز ہیں۔

اس مرتبہ ایتھوپیا، افریقی ممالک کی Light Athletics چیمپئن شپ کے مقابلوں میں جنوبی افریقہ اور نائجیریا کے بعد تمغوں کے حساب سے تیسری پوزیشن پر آیا۔ لیکن ایتھوپییا کے باشندوں کو اس سے زیادہ ، اس بات کی خوشی ہے کہ طویل اور مختصر فاصلوں کی تمام ریسوں میں ایتھپین کھلاڑی ناقابل شکست رہے۔

دس ہزار میٹر کی ریس جیتنے والی کھلاڑی Tirunesh Dibaba اپنے ملک کی اس کارکردگی پر پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ افریقن چیمپئن شپ ، ایتھوپیا میں منعقد ہوئی۔ اور ایتھوپیا افریقہ میں ، Light Athletics کے شعبے میں سب سے بڑا ملک ہے۔ مجھے اپنے ہی گھر میں، اپنے لوگوں کے سامنے ، کامیابی حاصل کرنے بہت اچھا لگا۔

ایتھوپیا نے 1960 میں اٹلی کے اولمپک مقابلوں میں پہلی مرتبہ سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ یہ سہرا اس وقت کے شہنشاہ Haile Seassie کے باڈی گارڈ ، Abebe Bikila کے سر تھا ۔ Abebe Bikila نے ننگے پیر اس دوڑ میں حصہ لیا ۔ اور 42 کلومیٹر کا فاصلہ دو گھنٹے اور 15 منٹ میں طے کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ، ایتھوپیا کو ابھی اٹلی سے آزادی حاصل کئے بیس برس ہی ہوئے تھے۔ جب Bikila سے یہ پوچھا گیا ، کہ آخر انہوں نے ریس میں ننگے پیر کیوں حصہ لیا ، تو ان کا جواب تھا ، کہ وہ اٹلی کو دکھانا چاہتے تھے کہ ایتھوپیا کے باشندے کتنے مضبوط اور طاقتور ہو سکتے ہیں۔

آخر دنیا میں ایتھوپیا کے باشندے ہی کیوں میراتھن ریس میں سب سے زیادہ مشہور ہیں ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ، مشہور ایتھلیٹ Haile Gebreselassie نے کہا ، کہ یورپ ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتا ہے جبکہ ایتھوپیا میں ہر شخص مستقل حرکت میں رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایتھوپیا میں ابھی بھی کئی علاقوں میں بچے اسکول کی جانب دوڑ لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کنویں سے پانی لانے کے لئے بھی دوڑ لگائی جاتی ہے، یہ سب کچھ ننگے پاؤں ہی کیا جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایتھوپیا میں سب کچھ دوڑنے کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔

غربت کا شکار اور جنگ میں گھرے ہوئے اس ملک کے ایتھلیٹس کو ان کی کارکردگی کی وجہ سے سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ بیجنگ اولمپک میں ایتھوپیا کے کھلاڑیوںکی کیا کارکردگی رہتی ہے؟