1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’ایتھنز میں باضابطہ مسجد مسلمانوں کا حق ہے‘‘

یونان کے وزیر اعظم جورج پاپاندریو نے بالآخر تسلیم کرلیا ہے کہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود دارالحکومت ایتھنز میں مسلمانوں کے لئے عبادت گاہ فراہم نہ کرنا ’باعث ندامت‘ ہے۔

default

پاپاندریو نے اعلان کیا ہے کہ مناسب سرکاری مسجد کے قیام تک مسلمانوں کو فوری طور پر ایک عارضی عبادت گاہ فراہم کی جائے گی۔

یونانی وزیر اعظم نے کہا کہ باضابطہ مسجد مسلمانوں کا حق ہے۔ پارلیمان میں خطاب کے دوران یونانی وزیر اعظم نے کہا، ’’ 25 سال ہوگئے یا شاید اس سے بھی زیادہ کہ میرے والد ’آندریاس پاپاندریو‘ نے بطور وزیر اعظم ایتھنز میں ایک مسجد کے قیام کا اعلان کیا تھا، انتہائی ندامت کی بات ہے کہ اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا‘‘۔

یونان کی اکثریتی آبادی آرتھوڈوکس کرسچیئن عقیدے کی پیروکار ہے۔ انہیں لگ بھگ چار دہائیوں تک خلافت عثمانیہ کے دور میں مسلمانوں کے زیر حکمرانی رہنا پڑا تھا۔ ملک کے شمال مشرقی حصے میں اب بھی ترک نسل کی اقلیتی آبادی موجود ہے۔ 19 ویں صدی کے اوائل میں یہاں مسیحیت کی بحالی کے بعد مسلم دور حکومت سے جڑی بہت سی نشانیوں کو مٹا دیا گیا تھا۔ تب سے اب تک بیورو کریسی اور مقامی کلیسائی قیادت کسی بھی سرکاری مسجد کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

NO FLASH George Papandreou Ankündigung Bitte um EU Hilfen

یونانی وزیر اعظم جورج پاپاندریو

یونان کی سرحدیں بر اعظم ایشیاء اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ترکی سے ملتی ہیں۔ غیر قانونی ذرائع سے یورپ میں داخلے کے خواہش مند ایشیائی، افریقی اور عرب نسل مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں موجود ہے۔ اس یورپی ملک میں بسنے والے مسلمانوں نے کرائے کے اپارٹمنٹس اور تہہ خانوں میں عارضی مساجد قائم کر رکھی ہیں جو گاہے بگاہے لسانی حملوں کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔

یونانی ذرائع ابلاغ کے مطابق چھ ماہ کے اندر ایک عارضی مسجد قائم کردی جائے گی۔ اس کے لئے بحریہ کے بیس کیمپ کے پاس واقع صنعتی علاقے الائیوناس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ 2012ء تک پانچ سو افراد کی گنجائش والی مسجد کے قیام کی خبریں یونانی میڈیا میں عام ہیں۔

عید الضحیٰ کے موقع پر دارالحکومت کے وسطی علاقے میں مسلمانوں نے کھلے آسمان تلے عید کی نماز ادا کی۔ اس موقع پر مقامی افراد نے انہیں حراساں کیا، انڈے مارے اور بلند آواز میں موسیقی بجائی۔ صورتحال کو بگڑنے سے روکنے کے لئے درجنوں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

یونان کی بگڑتی اقتصادی صورتحال کے تناظر میں تارکین وطن کے خلاف نفرت کے جذبات مزید ابھرے ہیں۔ گزشتہ ماہ منعقدہ مقامی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے کامیابیاں سمیٹی ہیں جو تارکین وطن مخالف سمجھی جاتی ہے۔ نیکوس میہالولیاکوس نامی سیاست دان کی اس جماعت کے منشور میں مسجد مخالف نعرہ بھی شامل تھا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس