1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایتھلیٹ ویلیج کی صفائی کا کام بدھ تک مکمل ہوجائے گا:نئی دہلی

بھارت کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کو ایشیائی خطے میں خود کو ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کی حیثیت سے منوانے کے لئے استعمال کر نے کی سعی کر رہا ہے۔

default

بھارت میں دولت مشترکہ یا کامن ویلتھ گیمز کی ابتدا تین اکتوبر سے ہونا ہے۔ اتھلیٹس ویلیج کو قابل رہائش بنانے اور دیگر کام مکمل کرنے کے لئے تعمیراتی کارکنان تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کی چیف منسٹر شیلا ڈکشٹ نے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کی ذمہ داری گزشتہ ہفتے سنبھالی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ اتوار کو کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب سے پہلے پہلے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی جائیں گی۔ بھارتی حکام نے از سر نو یقین دلایا ہے کہ ایتھلیٹس ہاؤسنگ کی صفائی اور اسے قابل استعمال بنانے کا کام بدھ تک مکمل ہو جائے گا۔ شیلا ڈکشٹ چند روز سے ایک گولف کارٹ کے ذریعے مسلسل ایتھلیٹس ویلیج کا دورہ کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Indien Commonwealth Games 2010 Flash-Galerie

کومن ویلتھ گیمز کی تیاریوں میں ملوث کارکنان رات کو سڑکوں پر سوتے ہیں

بھارت کے لئے معاملہ محض کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کو بخیر و خوبی انجام دینے کا ہی نہیں ہے بلکہ اس وقت بھارت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ایک طرف ایتھلیٹس ویلج کی گندگی، وہاں پائے جانے والے بڑے بڑے سانپ، نا قابل استعمال کثیف الطبع ٹوائلٹس کے سبب بھارتی انتظامیہ پر ہونے والی تنقید جاری ہے تو دوسری جانب نئی دہلی حکومت اپنے ملک کی ایک جدید اور ترقی یافتہ شکل پیش کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔ بھارت کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کو ایشیائی خطے میں خود کو ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کی حیثیت سے منوانے کے لئے استعمال کر نے کی سعی کر رہا ہے۔ نئے ہائی ویز کی تعمیر، میٹرو لائنز کی توسیع، اسپورٹس گراؤنڈز اور دو بلین ڈالر کی لاگت والے بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیر انہی کوششوں کا حصہ ہے۔

تاہم نئی دہلی حکومت کو اُن دیرینہ معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لئے بہت زیادہ وقت اور رقم درکار ہےجو وہاں صدیوں سے پائی جاتی ہیں۔ ان میں بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ، بچوں سے لی جانے والی جبری مشقت، بھارت کے گنجان آبادی والے علاقوں میں پائی جانے والی کچی آبادیاں، ماحول کو آلودہ کرنے والی بوسیدہ بسیں اور بہت سے دیگر معاشرتی مسائل شامل ہیں جو بھارت کے امیج کے لئے کلنک کا ٹیکہ بنے ہوئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی مرکزی شاہراہوں پر رات دن بھیک مانگتے بھکاریوں کو دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

Indien Flash-Galerie Commonwealth Games Dorf

کومن ویلتھ گیمز کے سلسلے میں تعمیراتی کاموں میں بچوں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے

آج پیر کو نئی دہلی کی سڑکوں سے ایک ہزار پرانی بسیں ہٹا لی گئی ہیں جس کے سبب عوام کو روزمرہ کے کاموں اور دفاتر اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام میں اس بارے میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ 49 سالوں سے نئی دہلی میں آباد ایک رکشہ ڈرائیور راوی سکا کے مطابق،" ان اقدامات سے کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تعمیراتی کام، پرانی بسوں کو شہروں سے غائب کرنے اور دیگر اقدامات عوام کی زندگی مشکل بنانے کے مترادف ہے۔ کامن ویلتھ گیمز نئی دہلی کے لئے کوئی خوش آئند بات نہیں ہے۔"

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس