1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایبٹ آباد کا واقعہ، فوجی افسران کو طلب کر لیا گیا

پاکستان میں 2 مئی کو ہونیوالے ایبٹ آباد کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن نے فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور ڈپٹی ایئر چیف کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے پیر 11 جولائی کو طلب کر لیا ہے۔

default

کیبنٹ ڈویژن کے ذرائع نے ڈوئچےویلےکو بتایا کہ مذکورہ دونوں افسران کو اس سلسلے میں وزارت دفاع کے ذریعے بدھ کو خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس وقت میجر جنرل اشفاق ندیم ڈی جی ملٹری آپریشنز جبکہ ایئر مارشل محمد حسن ڈپٹی ایئر چیف کے عہدے پر تعینات ہیں۔

اس سے قبل ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کا پہلا اجلاس سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں منگل کی شام منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں کمیشن کے دیگر ارکان، جن میں سابق آئی جی پولیس عباس خان ، سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد شامل ہیں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کمیشن با اختیار ہے اور وہ اپنے کام کی تکمیل کے سلسلے میں کسی کو بھی طلب کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم تین نکات پر کام کر رہے ہیں، جس میں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے محرکات اور 2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن اور اس کے بعد اگر کسی سے کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا تعین کرنا شامل ہے۔‘‘

Versteck von Osama bin Laden in Pakistan

اس سے قبل ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کا پہلا اجلاس سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں منگل کی شام منعقد ہوا تھا

دوسری جانب تجزیہ نگار ایبٹ آباد کمیشن کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کو طلب کرنے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ اس بارے میں دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کا کہنا ہے، ’’ایک اچھے محفوظ معاشرے میں یہ روزانہ ہونیوالی چیزیں ہیں اور اگر وہ آئیں گے تو یہ پہلی کڑی ہو گی کہ ہم سچ کی جانب بڑھیں گے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان لوگوں نے تو پارلیمنٹ کو بریف بھی کیا ہے کہ ایبٹ آباد کا واقعہ کیوں اور کیسے ہوا، کس کا کیا کردار ہے؟ میرے خیال میں سچ کی طرف پہنچنے میں پہلا قدم ہوگا۔‘‘

ایک سوال پر مسعود اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بریف کرنے میں اور کمیشن کے سامنے بیان دینے میں بہت فرق ہے۔ کمیشن میں ان کو جرح کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس سے قبل ایبٹ آباد کمیشن کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں عوام کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ واقعہ ایبٹ آباد کے بارے میں شہادتیں 31 جولائی تک کمیشن کو پہنچا سکتے ہیں، جس کے بعد کمیشن خود ان افراد سے رابطہ کرے گا۔ ایبٹ آباد کمشن کا آئندہ اجلاس گیارہ جولائی کو ہوگا۔

دوسری جانب صحافی سلیم شہزاد کی قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شریعت کورٹ کے چیف جسٹس آغا رفیق ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب ،ڈی آئی جی اسلام آباد اور پی ایف یو جے کے صدر نے شرکت کی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM