1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایبٹ آباد میں خونریز مظاہرے، سات افراد ہلاک

شمال مغربی پاکستان میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھنے کے خلاف احتجاج کے دوران عوامی مظاہروں کے پر تشدد ہو جانے کے نتیجے میں پیر کے روز کم ازکم سات افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے۔

default

صوبہ سرحد میں مظاہرین کے خلاف پولیس ایکشن، فائل فوٹو

ان مظاہروں سے قبل ایبٹ آباد میں دفعہ 144 نافذ تھی اور ہر طرح کے عوامی اجتماعات بھی ممنوع قرار دئے جا چکے تھے۔ تاہم پابندی کے باوجود پیر کی صبح سینکڑوں مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہو گئے۔

مشتعل مظاہرین نے کینٹ پولیس اسٹیشن کے رہائشی کمروں، پولیس کی ایک گاڑی اور ایک ایمبولینس کو بھی آگ لگا دی، جبکہ اس دوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ اس دن شروع ہوا تھا، جب اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی۔

یہ مظاہرین ان عوامی اور سیاسی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کا مطالبہ ہے کہ صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن کو بھی ایک علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔ آج پیر کے روز کے لئے مسلم لیگ (ن) اور ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے والوں نے ایبٹ آباد شہر میں بیک وقت احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا اعلان کر رکھا تھا، جس پر پشاور میں صوبائی حکومت نے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر کے ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی تھی۔

تاہم اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینکڑوں مظاہرین احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس پر حالات اتنے بگڑ گئے کہ نتیجہ کئی انسانی ہلاکتوں اور بیسیوں افراد کے زخمی ہونے کی صورت میں نکلا۔

پشاور میں صوبائی حکومت نے پیر کے خونریز واقعات کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ جو بھی عناصر ایبٹ آباد میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں میں ملوث پائے گئے، وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔

Jahresrückblick 2005 Oktober Erdbeben Pakistan

ہزارہ ڈویژن میں زلزلے کے بہت سے متاثرین ابھی تک اپنی بحالی کے انتظار میں ہیں

میاں افتخار حسین نے کہا: ’’ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ 63 سال تک ہم نے اس صوبے کے نام کی تبدیلی کے لئے مذاکرات اور بات چیت ہی کا راستہ اپنایا۔ ہزارہ میں احتجاج شروع ہوتے ہی صوبائی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم مسلم لیگ کی قیادت نے یہ کہا تھا کہ وہ آپس میں مشورے کے بعد ہی اپنا لائحہ عمل واضح کر سکے گی۔‘‘

ہزارہ ڈویژن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ کا بڑا مضبوط ووٹ بینک ہے۔ ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے متعدد ساتھی یہاں سے مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم 2008ء کے انتخابات میں ان میں سے اکثریت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسلم لیگ (ن) ہزارہ کی اکثریتی جماعت ہے، جس کی تجویز پرپختونخوا کے بجائے صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مسلم لیگ (ق) کے علاوہ تمام سیاسی جاعتو ں نے صوبے کا نام خیبر پختونخوا رکھنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے، یہاں تک کہ جماعت اسلامی نامی مذہبی سیاسی پارٹی نے بھی اس کی حمایت کی اور صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹ میں رائے شماری کے دوران بھی صوبے کے اسی نئے نام کی حمایت کریں گے۔ پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ ان کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل نہیں ہے، البتہ سینیٹ میں جماعت اسلامی اس کے حق میں ووٹ دے گی۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 2008ء کے انتخابات میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن اور مانسہرہ میں زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالے سے بھی مسلم لیگ (ق( پر اپنے جلسوں میں شدید تنقید کی تھی۔ یہ اسی تنقید کی وجہ سے ہوا تھا کہ عوام نے مسلم لیگ (ق( کے زیادہ تر انتخابی امیدواروں کو مسترد کر دیا جو آج ’’اسی کا بدلہ لینے کے لئے حالات خراب کر رہے ہیں۔‘‘

صوبہ سرحد کا ہزارہ ڈویژن پانچ اضلاع پر مشتمل ہے، جن میں ایبٹ آباد، بٹ گرام، کوہستان، مانسہرہ اور ہری پور شامل ہیں۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی آبادی 35لاکھ سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ اس میں پشتو بولنے والے چھ لاکھ 56ہزار، سرائیکی بولنے والے 2522 شہری، پنجابی بولنے والے 34 ہزار163 اور اردو بولنے والے 16 ہزار944 شہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہزار ڈویژن میں 27 لاکھ 92ہزار سے زائد افراد ہندکو، گوجری،شینا، کوہستانی اور دیگر زبانیں بولنے والے شہری ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کے ضلع بٹ گرام میں اکثریتی آبادی کا تعلق پشتونوں سے ہے جبکہ دوسرے ضلع کوہستان میں زیادہ تر لوگ شینا اور کوہستانی زبان بولتے ہیں۔ باقی تین اضلاع کے 77.1فیصد لوگوں میں 21 فیصد پشتو بولتے ہیں۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: مقبول ملک

DW.COM