1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایبٹ آباد حملہ: تحقیقاتی کمیشن قائم

پاکستان نے دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور دو مئی کو ہونے والے امریکی آپریشن میں اس کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کر دیا ہے۔

default

منگل کے روز پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے کیے گئے اعلان میں کہا گہا ہے کہ پانچ رکنی کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کریں گے۔ یہ کمیشن اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے تمام حقائق سامنے لائے گا۔ وزیراعظم گیلانی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ کمیشن امریکی اسپشل فورسز کے ایبٹ آباد میں کیے جانے والے آپریشن کے بارے میں بھی مکمل تحقیقات کرے گا۔

قبل ازیں پاکستانی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تیرہ مئی کو ہونے والے پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ 'ان کیمرہ' اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مجوزہ کمیشن کی تشکیل وزیرِاعظم کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے کی جائے جو واقعہ کی مکمل تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے۔

رواں ماہ قانون سازوں کی طرف سے بھی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پتہ چلایا جائے کہ اسامہ بن لادن کس طرح آرمی ٹریننگ کیمپ کے نزدیک چھپا رہا اور یہ بھی پتہ چلایا جائے کہ اسے کس کی مدد حاصل تھی۔

NO FLASH Osama bin Laden Haus

پاکستانی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا

ڈرون حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کی طرف سے یہ دھمکی بھی دی گئی تھی کی نیٹو اور امریکی افواج کو پاکستانی راستے سے امدادی اشیا کی ترسیل بھی روک دی جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما کا بھی کہنا ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کس طرح دنیا کا انتہائی مطلوب ترین شخص پاکستانی ملٹری کیمپ کے نزدیک چھپا رہا۔

حالیہ چند دنوں میں صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہرایا جاتا رہا ہے۔

اعلان کردہ کمیشن کے ارکان میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم، سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی، سابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد اور سابق آئی جی پولیس عباس خان شامل ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM