1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایبٹ آباد آپریشن: جنرل وائیں کا دورہء امریکہ منسوخ

پاکستانی مسلح افواج کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل خالد شمیم وائیں نے آج جمعہ کو اپنا امریکہ کا وہ دورہ منسوخ کر دیا، جو انہیں اس مہینے کی 22 سے لے کر 27 تاریخ تک کرنا تھا۔

default

اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اعلیٰ فوجی حکام نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں دو مئی کو دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوجی کمانڈوز نے جو یکطرفہ کارروائی کی تھی، اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں اس وقت جو ماحول پایا جاتا ہے، یہ دورہ اسی ماحول کے تناظر میں منسوخ کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک سینئر آفیسر نے فرانسیسی خبر ایجنسی AFP کو بتایا کہ جنرل خالد شمیم وائیں نے اپنے امریکی ہم منصب عہدیدار ایڈمرل مائیک مولن سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس ماہ کی22 تاریخ سے اپنے مجوزہ دورے پر امریکہ نہیں جائیں گے۔ جنرل وائیں کا یہ دورہ چند ماہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کے لیے پاکستانی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو سرکاری طور پر دعوت ایڈمرل مائیک مولن نے دی تھی۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاکستانی فوج کے سربراہ پرویز کیانی

اسلام آباد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستانی فوج کے اس اعلیٰ اہلکار نے مزید کوئی تفصیلات بتائے بغیر بس اتنا ہی کہا کہ جنرل وائیں نے ٹیلی فون پر ایڈمرل مولن کو بتا دیا ہے کہ وہ امریکہ نہیں آ رہے۔

پاکستان میں سول حکومت کو اس عوامی مطالبے کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے داخلی دباؤ کا سامنا ہے کہ اسلام آباد کو ملکی سرزمین پر بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کی یکطرفہ کارروائی پر واشنگٹن کو سزا دینی چاہیے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے کل جمعرات کو یہ کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ اپنے تعاون پر نئے سرے سے غور کرے گی۔

Mike Mullen

ایڈمرل مائیک مولن

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پاکستانی حکومت کے اس بیان کا مقصد امریکہ کو کوئی دھمکی دینا تھا۔ لیکن اس بیان سے کم ازکم یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکی سینیٹ کے رکن جان کیری کو واشنگٹن اور اسلام آباد کے باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے کتنا مشکل فریضہ انجام دینا ہوگا۔ سینیٹر جان کیری ان دنوں اپنے پاکستان کے ایک نئے دورے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ پاکستان اور امریکہ کے آپس میں ایک دوسرے کے اتحادی ہونے کے باوجود دوطرفہ روابط میں پائے جانے والے شدید دباؤ اور کھنچاؤ کو ختم کرتے ہوئے ان میں بہتری لائی جا سکے۔

واشنگٹن حکومت یہ اعتراف کر چکی ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی بحریہ کے خصوصی کمانڈوز کے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے متعلق اسلام آباد کو تب تک دانستہ طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی، جب تک کہ یہ کمانڈوز بن لادن کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کے ساتھ اپنے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دوبارہ پاکستان کی فضائی حدود سے باہر نہیں چلے گئے تھے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس