1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایئر فرانس: طیّارے کی دُم برآمد کر لی گئی

برازیل کی افواج کے مطابق ایئر فرانس کے تباہ شدہ طیّارے کی دُم کا حصّہ بحرِ اوقیانیوس سے برآمد کر لیا گیا ہے۔ برازیلی افواج نے دُم کے حصّے کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔

default

اس وقت سب سے بڑی ترجیح برازیل کے ساحل کے قریب جزائر سے مسافروں کی لاشیں باہر نکالنا ہے

گزشتہ ہفتے پیر کے روز لاپتہ ہو جانے والے ایئر فرانس کے مسافر بردار تیّارے کے بعض دیگر حصّے، مسافروں کا کچھ سامان اور سترہ کے قریب لاشیں برازیلی حکّام نے برآمد کر لی ہیں۔

Brasilien Frankreich Air France Flug 447 Wrackteile

لاشیں اور ملبہ ڈھونڈنے کا کام جاری ہے


مذکورہ طیّارہ گزشتہ ہفتے پیر کے روز برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جینیرو سے فرانسیسی دارلحکومت پیرس کی جانب پرواز کر رہا تھا، جب اس کا کنٹرول روم سے رابطہ چند گھنٹوں بعد منقطع ہو گیا۔ طیّارے پر مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت دو سو اٹھائیس افراد سوار تھے اور ان میں سے کسی کے بھی بچ جانے کی امید نہیں ہے۔

دریں اثناء امریکہ نے اپنے ماہرین کی ایک ٹیم جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی ہے، جو کہ جہاز کے ’’بلیک باکس‘‘ کو تلاش کرنے میں مدد دے گی۔ ’’بلیک باکس‘‘ کے ذریعے طیّارے کے حادثے کا سبب طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

طیّارے کا ملبہ اور لاشیں بحرِ اوقیانوس میں برازیل کے جزیرے فیرنانڈو ڈے نورونہا سے ایک ہزار کلومیٹر شمال مشرق میں ملے ہیں۔

Vermisstes Air France Flugzeug

طیّارے پر مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت دو سو اٹھائیس افراد سوار تھے


تلاشی کے کام میں مصروف مختلف ٹیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے پانی میں جہاز کے کئی مزید حصے بھی دریافت کئے ہیں تاہم اس وقت سب سے بڑی ترجیح برازیل کے ساحل کے قریب جزائر سے مسافروں کی لاشیں باہر نکالنا ہے۔

ائیر فرانس کا یہ طیارہ حادثے کا شکار کیسے ہوا؟ اس سوال کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آتے چلے گئے۔ پہلے یہ کہا گیا کہ یہ جہاز آسمانی بجلی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔ حادثے کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ جہاز کے سینسر پر اس کی رفتار کے بارے میں متضاد معلومات موصول ہورہی تھیں۔

ایسی معلومات کے بعد ائیر فرانس نے اپنے جہازوں کی رفتار کو ناپنے والے آلات کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حکام نے ساتھ ہی میڈیا چینلز اور ماہرین کو خبردار کیا ہےکہ وہ وقت سے پہلے اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں رائے دینے سے پرہیز کریں۔

DW.COM