1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایئربس کی بوئنگ پر مسلسل تیسرے برس بھی سبقت

یورپی طیارہ ساز کنسورشیم ایئر بس کے مطابق گزشتہ برس اس کمپنی کو 574 نئے ہوائی جہازوں کی خریداری کے آرڈر ملے اور یوں اس یورپی ادارے نے اپنی قریب ترین امریکی حریف کمپنی بوئنگ کو مسلسل تیسرے برس بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

default

جرمن شہر ہیمبرگ میں ایئر بس طیاروں کی اسمبلنگ کا ایک منظر

فرانسیسی شہر تولوز میں، جہاں ایئر بس کے صدر دفاتر قائم ہیں، اس کئی ملکی یورپی کنسورشیم کی طرف سے پیر کے روز بتایا گیا کہ ہوابازی کی بین الاقوامی منڈی میں، جسے دو سال پہلے تک اپنی تاریخ کی شدید ترین کساد بازاری کا سامنا تھا، توقع سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے گرم بازاری دیکھنے میں آئی ہے، اور یہ رجحان ابھی تک جاری ہے۔

ایئر بس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سن 2010 میں اس ادارے کو ملنے والے نئے آرڈرز کی مالیت 74 بلین امریکی ڈالر کے برابر رہی جبکہ گزشتہ برس اس کمپنی نے اپنے خریداروں کو 510 نئے ہوائی جہاز فراہم کیے، جو سالانہ بنیادوں پر اپنی تعداد کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ ہے۔

737 Renton

امریکہ کی وفاقی ریاست واشنگٹن میں بوئنگ کا ایک اسمبلنگ پلانٹ

ایئر بس کے اس بیان کے مطابق دو سال قبل سن 2009 میں اس ادارے کو ملنے والے نئے طیاروں کی خریداری کے آرڈرز کی مجموعی تعداد صرف 271 رہی تھی، اور یہ وہ دور تھا جب عالمی معیشت بین الاقوامی مالیاتی بحران کے شدید ترین اثرات کی زد میں تھی۔

اس کے برعکس عالمی منڈیوں میں ایئر بس کے سب سے بڑے حریف ادارے اور امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے ابھی چند روز پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ سن 2010 کے دوران اسے 530 نئے طیاروں کی خریداری کے آرڈر ملے تھے اور اسی عرصے میں اس نے 462 ہوائی جہاز بنا کر دنیا بھر میں اپنے خریداروں کے حوالے کیے۔

یورپی طیارہ ساز کنسورشیم ایئر بس، جس میں دیگر ملکوں کے علاوہ جرمنی اور فرانس بھی شامل ہیں، کے چیف ایگزیکٹو آفسیر Tom Enders کے مطابق یہ ادارہ سن 2011 میں اپنے گاہکوں کو، جن میں زیادہ تر بڑی بڑی ایئر لائنز شامل ہیں، جو نئے طیارے بنا کر فراہم کرے گا، ان کی تعداد 520 سے لے کر 530 تک رہے گی۔ ٹام اینڈرز کے بقول توقع ہے کہ ایئر بس کو سال رواں کے دوران ملنے والے نئے آرڈرز اس تعداد سے بھی زیادہ رہیں گے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس