1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اہم جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے انتخابات

آبادی کے لحاظ سے جرمنی کی سب سے بڑی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں اتوار چودہ مئی کو علاقائی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ رواں برس ستمبر کے وفاقی الیکشن سے قبل یہ صوبائی انتخابات انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی کی تمام اہم بڑی سیاسی جماعتوں نے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں انتہائی پرجوش انداز میں انتخابی مہم چلائی۔ اس انتخابی عمل میں اکتیس مختلف سیاسی جماعتوں کے تیرہ سو سے زائد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں سے چانسلر انگیلا میرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین(سی ڈی یو)، اس کی حلیف جماعتیں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) اس صوبے میں بہت فعال دکھائی دیں۔

اس کے علاوہ دائیں بازو کی جماعت ایف ڈی پی نے بھی کئی انتخابی جلسے کیے اور ممکنہ ور پر  یہ جماعت پہلی مرتبہ ریاستی اسمبلی تک پہنچ سکتی ہے۔

شلیسوِگ ہولسٹائن کے الیکشن، انگیلا میرکل کی ’بڑی جیت‘

چانسلر میرکل کا ’امتحان سے پہلے امتحان‘

کیا مہاجرین انتخابات پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟

نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی آبادی تقریباً اٹھارہ ملین ہے، جو جرمنی کی کل آبادی کا بیس فیصد بنتا ہے۔ اس صوبے میں اہل ووٹرز کی تعداد 13.2 ملین ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی قومی پیداوار میں اس صوبے کا حصہ سب سے زیادہ بنتا ہے۔

اس صوبے میں 2010ء سے سوشل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی کی حکومت ہے۔ ایس پی ڈی کی  ہانیلورے کرافٹ صوبے کی وزیر اعلی ہیں۔ سی ڈی یو کی جانب سے آرمن لاشرٹ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ہیں۔

اس مرتبہ کی انتخابی مہم میں سلامتی اور تعلیم و تربیت کا موضوع ہی چھایا رہا۔ اس کے علاوہ برلن کی کرسمس مارکیٹ پر حملہ کرنے والے انیس عامری کے حوالے سے بھی سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی۔

اسی صوبے کے ایک اہلکار  پر اس معاملے میں غفلت برتنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں صوبے کے وزیر داخلہ رالف ییّگر کو انتہائی متنازعہ شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔

 قبلازانتخابات کے جائزوں کے مطابق سوشل ڈیموکریٹ بتیس فیصد تک ووٹ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ سی ڈی یو کو تقریباً تیرہ فیصد کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

دائیں بازو کی اے ایف ڈی بھی سات فیصد تک ووٹ حاصل کر لے گی۔ متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اس مرتبہ بھی حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گی۔

DW.COM