1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اہل مغرب اور مسلمان: دو طرفہ دقیانوسی تصورات میں معمولی بہتری

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اہل مغرب اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں دقیانوسی تصورات میں معمولی سی بہتری آئی ہے۔ یہ بات پیو گلوبل ایٹیچیوڈز پراجیکٹ کے جمعرات 21 جولائی کو جاری کیے گئے ایک نئے سروے میں بتائی گئی۔

default

اہل مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات۔

یہ سروے 2006 میں انہی سوالات پر مشتمل ایک سابقہ سروے کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے کیا گیا تھا، جس سے یہ دیکھنا مقصود تھا کہ دونوں گروپوں کے افراد پانچ برس بعد ایک دوسرے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے علاوہ بارہ ملکوں میں کیے جانے والے اس سروے میں چھ ملکوں کی اکثریتی آبادی مسلمان تھی جن میں انڈونیشیا، لبنان، پاکستان، مصر، اردن اور ترکی شامل ہیں جبکہ مغربی یا مسیحی آبادی کی اکثریت والے باقی چھ ملکوں میں امریکہ، اسپین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور روس شامل ہیں۔

سروے کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ اکثر مغربی باشندے مسلمانوں کو جنونی اور پرتشدد تصور کرتے ہیں جبکہ مشرق وسطٰی اور ایشیا کے مسلمانوں کے نزدیک مغربی باشندے خودغرض، لالچی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ پرتشدد اور جنونی بھی ہیں۔

سروے کے مطابق تین ملکوں کو چھوڑ کر دیگر مغربی ملکوں کے عوام نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کے نزدیک اسلام سب سے پرتشدد مذہب ہے جبکہ دوسری جانب مسلم ملکوں کے بیشتر افراد نے اپنے طور پر یہودیت کو پرتشدد ترین مذہب قرار دیا۔

Anschläge vom 11. September 2001 in New York Flash-Galerie

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے تقریبا ایک دہائی بعد پاکستان میں 57 فیصد اور مصر میں 75 فیصد افراد ان میں مسلمانوں کو ملوث نہیں سمجھتے۔

انڈونیشیا کے علاوہ تمام ملکوں کے عوام کا اس بات پر اتفاق تھا کہ مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان تعلقات ‘‘عام طور پر بہتر’’ کی بجائے ‘‘عام طور پر بدتر’’ تھے۔ اگرچہ تمام ملکوں میں ایسی سوچ رکھنے والے عوام کی تعداد میں 2006 کے سروے کے مقابلے میں کمی آئی ہے تاہم پاکستان میں اس میں 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مسلمان ملکوں میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے سوال پر مغربی ممالک کے افراد کی اکثریت نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ خود مسلمان ملکوں کے افراد میں اس بارے میں تشویش میں کمی آئی۔

Koran

چھ میں سے چار مسیحی اکثریتی آبادی والے ملکوں میں مسلمانوں کے بارے میں عام طور پر بہتر خیالات پائے جاتے ہیں۔

چھ میں سے چار مسیحی اکثریتی آبادی والے ملکوں کے افراد کا کہنا تھا کہ ان میں مسلمانوں کے بارے میں عام طور پر بہتر خیالات پائے جاتے ہیں۔ مسلمان آبادی والے ملکوں میں 48 سے 96 فیصد افراد نے کہا کہ وہ مسیحی عقیدے کے افراد کو بہتر نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم پاکستان اور ترکی میں پانچ برس پہلے کے سروے کے مقابلے میں اس میں کمی دیکھی گئی۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے تقریباﹰ ایک دہائی بعد پاکستان میں 57 فیصد اور مصر میں 75 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ان حملوں میں عرب ملوث نہیں تھے۔ اس سروے سے یہ بھی پتا چلا کہ مسیحی باشندوں کی نسبت مسلمان اپنے آپ کو پہلے مسلمان اور بعد میں کسی ملک کا شہری تصور کرتے ہیں۔ پاکستان میں 94 فیصد رائے دہندگان نے اسی سوچ کا اظہار کیا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM