1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اگلے ’سو برس‘ تک یورپ میں سخت سردی

سورج کی سطح پر تعاملات میں سست روی کے باعث مستقبل میں یورپ مزید سخت سردی کی لپیٹ میں رہے گا۔ محققین کے مطابق سورج پر جاری کچھ محرکات میں سستی نے مغربی ہواؤں کو روک رکھا ہے، جو براعظم یورپ میں گرم موسم کا باعث بنتی ہیں۔

default

محققین کا خیال ہے کہ سورج کی سطح پر دکھائی دینے والے کچھ دھبے زمین پر پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنے ہیں۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ ان نئے دھبوں کی وجہ سے زمین کلی طور پر متاثر نہیں ہوئی بلکہ چند مخصوص خطوں پر ہی ان کا اثر دیکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تناظر میں زمینی ماحول میں مجموعی طور پر پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو نہیں دیکھا جا سکتا۔

Oberfläche der Sonne

سورج پر جاری ایٹمی دھماکوں کا اثر زمینی ماحول پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے

یہ تحقیق ماحولیاتی ریسرچ کے ایک جریدے جرنل انوائرمنٹ ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مصنف یونیورسٹی آف ریڈنگ برطانیہ کے شعبہ ماحولیاتی طبیعیات سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر مائیک لوک ووڈ کے مطابق موجودہ معیارات کے تناظر میں یہ بھی دیکھا جانا ضروری ہے کہ آیا سورج پر پیدا ہونے والے ان چھوٹے چھوٹے سیاہ دھبوں اور یورپ میں سخت سردی کے موسم کے دوران یہ تعلق کوئی اتفاق ہے یا واقعی درست بھی ہے۔

اس تعلق کے حقیقی یا اتفاقی ہونے کے حوالے سے پروفیسر مائیک اور ان کی ٹیم نے شماریاتی ڈیٹا کو استعمال کیا ہے اور اس مقصد کے لئے برطانیہ کے مرکز(CET) کے درجہ حرارت کو معیار بنایا گیا ہے۔

اس تحقیق نے محققین نے CET کا گزشتہ 135 برس کا ڈیٹا استعمال کیا ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق نصف صدی قبل بھی سورج کی کارگزاری میں سستی اور چھوٹے چھوٹے سیاہ دھبوں کے پیدا ہونے کے باعث یورپ میں شدید ترین سردی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس سے قبل 17ویں صدی کے نصب میں بھی یورپ کو شدید ترین سردی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس کے بعد سولر ایکٹیویٹی میں قدرے تیزی دیکھی گئی تھی، جس کے اثرات یورپ میں قدرے گرم موسم کی صورت میں برآمد ہوئے تھے۔

پروفیسر لاک ووڈ کے مطابق گزشتہ نو ہزار سال سے سورج کی ایکٹیویٹی میں جاری عروج اور زوال کی کہانی میں ہر تین سو برس بعد اضافے کا رجحان دیکھا جاتا ہے اور پھر گراوٹ اگلے سو برسوں میں قدرے تیزی سے ہوتی ہے۔ پروفیسر ووڈ کے مطابق سورج کے جاری تعاملات میں موجودہ سستی کا آغاز 1985 میں ہوا تھا اور ممکنہ طور پر اگلے سو برسوں تک اس کا سلسلہ جاری رہے گا، نتیجے میں براعظم یورپ شدید سردی کی لپیٹ میں آتا چلے جائے گا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: ندیم گِل