’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘: اب غیرت کے نام پر دو بہنیں قتل | معاشرہ | DW | 30.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘: اب غیرت کے نام پر دو بہنیں قتل

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک بھائی نے اپنی دو بہنوں کو ان کی شادی سے ایک دن پہلے گولی مار کر قتل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کیا گیا ہے۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی لاہور سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں مزید دو خواتین ’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دی گئی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق بائیس سالہ کوثر اور اٹھائیس سالہ گلزار کی آج ہفتے کے روز شادی تھی لیکن دونوں بہنوں کو ان کے پینتیس سالہ بھائی ناصر حسین نے گزشتہ رات گولی مار کر قتل کر دیا۔

پولیس کے ایک سینیئر افسر مہر ریاض نے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں خواتین اپنی پسند سے شادی کر رہی تھیں جب کہ ان کا بھائی چاہتا تھا کہ ان کا رشتہ خاندان ہی میں کیا جائے۔ پولیس افسر مہر ریاض کا کہنا تھا، ’’ناصر حسین نے اپنی بہنوں کو گولی مار کر قتل کر دیا جس کے بعد وہ جائے واردات سے فرار ہو گیا۔ یہ سیدھا سادھا غیرت کے نام پر دوہرے قتل کا کیس ہے۔‘‘ پولیس کے مطابق ملزم کی تلاش جاری ہے۔

مبینہ قاتل بھائی اور مقتول بہنوں کے والد عطا محمد نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے بہنوں کو قتل کر کے ’سب کچھ برباد‘ کر دیا ہے۔ عطا محمد کے مطابق، ’’اس (ناصر حسین) نے میرا خاندان تباہ کر دیا، ہمیں برباد کر دیا ہے۔‘‘

پاکستان میں خواتین کے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کو بھی ان کے اپنے بھائی نے قتل کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں پنجاب ہی کے ایک شہر جہلم میں ایک اٹھائیس سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کو بھی مبینہ طور پر اپنی پسند کی شادی کرنے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا تھا۔

عام طور پر اپنے ہی اہل خانہ کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی خواتین کے قاتل قانونی سقم کی وجہ سے سزاؤں سے بھی بچ جاتے ہیں۔ حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیمیں ملکی قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی نے اس ضمن میں ایک نیا قانونی مسودہ منظور کر لیا ہے جسے جلد ہی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔

DW.COM