1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اگلا سال مشکل ہو گا: انگیلا میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا نئے سال کا خطاب آج ہفتے کی شام نشر ہو گا۔ ان کے خطاب کی ایڈوانس کاپی نیوز ایجنسی اے ایف پی (AFP) کو موصول ہوئی ہے۔ اس میں میرکل نے سن 2012 کو مشکل سال قرار دیا ہے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے نئے سال کے پیغام میں واضح کیا کہ سن 2011 کے دوران تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود جرمن اقتصادیات بہتر رہی لیکن اتوار سے شروع ہونے والا نیا سال یقینی طور پر جرمن معاشیات اور عوام کے لیے مشکلات کا سال ہو سکتا ہے۔ جرمن چانسلر کے خیال میں یورپ کے لیے عمومی طور پر اوریورو زون کے لیے خاص طور پر سن 2012 مشکلات سے عبارت ہو گا۔

سب سے سے بڑی یورپی اقتصادیات کے حامل ملک کی قائد حکومت نے اپنے نئے سال کے خصوصی پیغام میں ختمہونے والے سال کے بارے میں بتایا کہ اس برس کے دوران کئی اہم واقعات رونما ہوئے اور ان میں عرب دنیا میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی جسے عرب اسپرنگ کا نام دیا گیا، انتہائی اہم خیال کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ میرکل نے جاپان میں زلزلے اور سونامی سے پیدا ہونے والی تباہی کو بھی سن 2011 کا اہم حادثہ قرار دیا۔ چانسلر میرکل کا کہنا ہے کہ فوکو شیما میں برپا ہونے والی تباہی کے تناظر میں جرمنی نے فیصلہ کیا کہ سن 2022 میں تمام جوہری پلانٹ کو کلی طور پر بند کردیا جائے گا۔

Flash-Galerie Merkel Neujahrsansprache

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نئے سال کا پیغام دیتے ہوئے

نئے سال کے پیغام میں جرمن چانسلر نے یورپی براعظم کے دفاع کے لیے کہا کہ امن، آزادی، انصاف، انسانی حقوق اور جمہوریت ہی اس کے دفاعی پراجیکٹ کے اہم برج ہیں۔ میرکل کے مطابق سن 2011 کے دوران یورپ ایک بحران میں الجھا رہا۔ میرکل کے مطابق اس بحران سے نکلنے کا رستہ طویل ضرور ہے لیکن انجام کار یورپ انتہائی توانا اور مضبوط ہو کر ابھرے گا۔

یورو کرنسی کے حوالے سے جرمن چانسلر نے اپنے نئے سال کے پیغام میں کہا کہ سن 2008 کی کساد بازاری کے دوران اسی کرنسی نے انہیں امید اور حوصلہ دیا تھا اور سن 2011 کے دوران اس کرنسی کی قدر میں جو عدم استحکام رہا ہے وہ ایک عبوری دور ہے۔ چانسلر نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ وہ یورو کرنسی کو محفوظ اور مستحکم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔ میرکل کے مطابق یورو کرنسی اور یورپی قرضوں کے بحران کے باعث یورپ میں مزید قربت پیدا ہوئی ہے جو امید افزاء ہے۔

جرمن چانسلر کے اگلے سال کے بارے میں خدشات اپنی جگہ، جرمن عوام کو یقین ہے کہ نیا سال ان کے لیے حوصلہ افزاء اور مسرتوں سے لبریز ہو گا۔ جرمن ادارے ایلن باخ انسٹیٹیوٹ (Allensbach institute) نے نئے سال کی مناسبت سے جو سروے مکمل کیا ہے، اس کے مطابق 49 فیصد جرمن باشندے یقین رکھتے ہیں کہ سن 2012 ایک بہتر سال ہو گا جب کہ 17 فیصد نے نئے سال کو پریشانیوں سے بھرا سال قرار دیا ہے۔ اس سروے میں 26 فیصد افراد کے نزدیک نیا سال پریشانیوں اور خوشیوں کا مرکب ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس