1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اگر اسامہ بن لادن پکڑا گیا تو؟

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے بقول اگر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن یا نائب سربراہ ایمن الظواہری گرفتار ہوتے ہیں تو ممکنہ طور پر انہیں گوانتاناموبے کے حراستی کیمپ میں رکھا جائے گا۔

default

امریکی سینیٹرز کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ اگر القاعدہ کے یہ دو اہم ترین رہنما گرفتار ہوتے ہیں تو امریکہ اس صورتحال سے کیسے نمٹے گا؟ پنیٹا کا جواب تھا کہ ایسے صورت میں فوری طور پر ان مطلوب ترین افراد کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر موجود امریکی فوجی اڈے پر منتقل کردیا جائے گا، جہاں ان سے ضروری تفتیش کے بعد ممکنہ طور پر گوانتا ناموبے پہنچا دیا جائے گا۔

El Kaida Archivbild Aiman Al-Zawahri

القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری

تاہم امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمزکلیپر کا خیال اس سے مختلف تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری گرفتار ہوتے ہیں تو اس سے ملک کی مختلف ایجنسیز کے درمیان ایک بحث چھڑ سکتی ہے کہ القاعدہ کی ان دو شخصیات سے کیسے نمٹا جائے؟

امریکی کانگریس میں یہ سوال بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ اگر مشتبہ دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ کیونکہ متعدد ریبلکن ارکان کانگریس گوانتاناموبے کا حراستی مرکز بند کرنے اور دہشت گردوں کے مقدمات ملکی عدالتوں میں سنے جانے کی مخالفت کررہے ہیں۔

CIA schafft umstrittene Geheimgefängnisse ab Leon Panetta

سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا

امریکی صدر باراک اوباما کیوبا کے جنوبی حصے گوانتاناموبے کے مقام پر موجود امریکی بحری اڈے میں قائم اس متنازعہ حراستی مرکز کو بند کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ امریکی صدر کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ کے بیان کے باوجود امریکی صدر گوانتا ناموبے کا حراستی مرکز بند کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

دوسری طرف امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اس خیال کا اظہار کرچکے ہیں کہ انہیں اس بات کی توقع نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن کو زندہ گرفتار کیا جائے گا۔ امریکی خفیہ ادارے نائن الیون حملوں کے بعد سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور اس تنظیم کے نائب سربراہ ایمن الظواہری کی تلاش میں ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس